سعودی عرب نے دسمبر میں نومبر کے مقابلے میں تیل کی یومیہ پیداوار میں پانچ لاکھ بیرل کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر توانائی اور صنعت خالد الفالح نے کہا ہے کہ ’’ ہم 2019ء میں تیل کے کم سے کم ذخائر کے ساتھ داخل ہونا چاہتے ہیں‘‘۔ان کا اشارہ پہلے سے ذخیرہ شدہ تیل کے ذخائر کی فروخت کی جانب تھا۔
انھوں نے کہا کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ( اوپیک) کو آیندہ سال بھی تیل کی عالمی مارکیٹ میں زیادہ سپلائی کے پیش نظر پیداوار میں کٹوتی کا فیصلہ کرنا پڑے گا اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق پیداوار میں کمی کا آپشن ممکن ہے۔
دریں اثناء روس کے وزیر توانائی الیگزینڈر نوواک نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ تیل کی مارکیٹ میں آیندہ سال میں بھی زاید رسد کا امکا ن ہوسکتا ہے اور ایسا آیندہ چند ماہ کے دوران میں موسمیاتی عوامل کی بنا پر ہو گا مگر 2019ء میں تیل کی مارکیٹ متوازن رہے گی۔












