امریکہ کا بھارت پر کسانوں کے احتجاج کا معاملہ بات چیت سے حل کرنے پر زور

0
659

امریکہ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ متنازع زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں سے بات چیت کر کے مسئلے کو حل کرے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ بھارتی حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

سفارت خانے کے ترجمان کا بیان میں مزید کہنا ہے کہ امریکہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ پر امن احتجاج فروغ پذیر جمہوریت کی شناخت ہے۔ امریکہ ایسے کسی بھی قدم کا خیر مقدم کرے گا جس سے بھارتی منڈیوں کی اہلیت اور نجی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔

یاد رہے کہ بھارتی کسان زرعی قوانین کے خلاف گزشتہ دو ماہ سے زائد عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اس دوران حکومت اور کسان رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر کسانوں نے 26 جنوری کو نئی دہلی میں احتجاج کے دوران طے شدہ روٹ سے ہٹ کر شہر میں بھرپور احتجاج کیا۔ اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا جب کہ کسانوں نے لال قلعے کی عمارت پر اپنا پرچم بھی لہرایا۔

حکومت نے نئی دہلی میں احتجاج کرنے والے کسانوں کے مقام پر انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے جب کہ کئی سڑکوں کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا ہے۔

مظاہرین احتجاج کے دوران لال قلعے پر بھارتی ترنگے کے اُوپر سکھوں کا مذہبی پرچم ‘نشان صاحب’ لگا رہے ہیں۔

کانگریس کی رکن ہیلی اسٹیونس نے کہا ہے کہ “ہمیں بھارت میں نئے زرعی قوانین کے خلاف پر امن انداز میں مظاہرہ کرنے والے کسانوں کے خلاف کارروائیوں کی رپورٹس پر تشویش ہے۔”

انہوں نے بھارتی حکومت اور کسانوں کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ بامعنی مذاکرات کی مدد سے مسئلے کو حل کریں۔

ایک دوسری امریکی قانون ساز الہان عمر نے بھارتی کسانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں بھارتی حکومت کو کسانوں کے جمہوری حقوق کا تحفظ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو اطلاعات تک آزادانہ رسائی دینا چاہیے۔ انھوں نے گرفتار صحافیوں کو رہا کرنے کی بھی اپیل کی۔

اس سے قبل امریکی گلو کارہ ریحانہ، ماحولیات کی سرگرم کارکن گریٹا تھنبرگ اور امریکی نائب صدر کاملا ہیرس کی رشتے دار مینا ہیرس نے کسانوں کے احتجاج کی حمایت کی تھی۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے مذکورہ نامور شخصیات کے تبصروں پر بدھ کو سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے ان تبصروں کو نامناسب اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا تھا۔

دریں اثنا حزبِ اختلاف کی 10 سیاسی جماعتوں کے 15 ارکان پارلیمنٹ نے جمعرات کی صبح نئی دہلی اور اترپردیش کے غازی پور سرحد پر احتجاج کرنے والے کسانوں سے ملاقات کرنے کی کوشش کی۔ لیکن پولیس نے انہیں وہاں جانے سے روک دیا۔

کسانوں کے احتجاج میں شرکت کے لیے جانے والے وفد میں شرومنی اکالی دل کی ہرسمرت کور بادل، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی سپریہ سولے، ڈی ایم کے کی کنی موژی اور ترنمول کانگریس کے سوگتا رائے بھی شامل تھے۔

ہرسمرت کور بادل نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ “ہم کسانوں کے احتجاج میں اس لیے جا رہے تھے کہ وہاں کے حالات پر پارلیمنٹ میں بحث کریں۔ تمام جماعتیں پارلیمنٹ میں بتائیں گی کہ احتجاج کے مقام پر کیا ہو رہا ہے۔”

ان کے بقول، “ہم نے غازی پور سرحد پر حالات دیکھے ہیں۔ کسانوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے اسے دیکھ کر صدمہ پہنچا۔ کسانوں کا کنکریٹ کی دیواروں اور خاردار تاروں کی باڑ سے محاصرہ کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ایمبولینس اور فائر برگیڈ کی گاڑیاں بھی وہاں تک نہیں جا سکتیں۔”

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے رامپور جا کر 26 جنوری کو ہلاک ہونے والے ایک کسان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔

SHARE

LEAVE A REPLY