اسلام میں میاں بیوی کے حقوق ایک دوسرے پر (56)شمس جیلانی

0
905

ہم نے گزشتہ مضمون میں یہ لکھا تھا کہ گھر میں اگر میاں بیوی دونوں پوری طرح مسلمان بن جائیں تو وہ گھر جنت بن جا ئے گا اور ایسی صورت میں تو اور بھی عمل کی ضرورت ہے کہ نوے فیصد بیویاں ملازمت کرکے اپنے بچوں اور شوہروں پر خرچ کر رہی ہیں۔ جو ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس کے لیے وہ صرف زبان سے محسنہ کہلانے کی ہی مستحق نہیں ہیں بلکہ دل سے بھی پورے خاندان کی محسنہ سمجھی جانے کی مستحق ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو خود کومسلمان کہلانا تو اچھا لگتا ہے ،مگر اسلام پر عمل کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے؟ حالانکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیشہ ہر ایسی آیت میں جہاں ا یمان لانے کا ذکر فرماتا ہے اس کے فوراً بعد عملِ صالح کا ذکر بھی فرما تا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے، وہ آپ میرے گزشتہ مضمون کو پڑھ لیں تو وہیں آپ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول بھی مل جائے گا اور اس بات کو سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ“ عمل کے بغیر ایمان کو ئی چیز نہیں ہے اور ایمان کے بغیر عمل“ آئیے اس سلسلہ میں مزیددیکھتے ہیں کہ حضور(ص) کیا فرماتے ہیں؟ اس لیئے کہ ا نکا(ص) ارشاد فرمایا ہوا ہر حرف حرفِ آخر ہے؟ ان کاا رشاد گرامی ہے کہ “مومن اور کافر میں فرق ہی یہ ہے کہ مسلمان نماز پڑھتا ہے کافر نہیں پڑھتا ہے“ اس کے معنی یہ ہوئے کہ بیوی کو محسنہ کہنا کافی نہیں ہے بلکہ اس کااظہار عمل سے بھی ہونا چا ہیے؟ جو کہ عموماً ہمارے ہاں نہیں ہوتا؟ یہ ہی وہ برا ئی ہے کہ تمام اعمالوں کوضائع کردیتی ہے؟ کیونکہ یہاں حکم یہ ہے سورہ الصف کی آیت نمبرایک میں کہ “ مسلمانوں وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو؟ جبکہ آیت نمبردو میں سخت اظہارِ برہمی ہے کہ یہ بات ا للہ کو سخت نا پسند ہے“ جولوگ بے عمل ہیں وہ میری معروضات پرٹھنڈے دل سے غور فرما ئیں کہ اگر آپ کو کسی کی کوئی عادت سخت نا پسند ہو اور اگر آ پ اسے برداشت کرنے کے لیے کسی ووجہسے مجبور نہ ہو ں، تو وہ کیا آپ کے پسندیدہ لوگوں میں شامل ہو سکتا ہے؟ اگر آپ انصاف پسند ہیں تو آپکا جواب یقیقًا یہ ہی ہوگاکہ نہیں ؟ تو پھر آپ اللہ سبحانہ تعالیٰ سے کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ جو بات اسے ناپسند وہ کرتے بھی رہیں۔ اور آپ اس کے پسندیدہ بندں میں شامل بھی رہیں؟ جوکہ ہرا عتبار سے اپنی ذات اور صفات میں سب سے زیادہ“ طاقتور“ ہے۔ اس کے اس کے ہاں بے عمل رہتے ہوئے پسندیدہ لوگوں میں شامل ہوجا ئیں یہ حیر کی بات نہیں ہوگی ؟ یعنی با عمل اور بے عمل مسلمان دونوں برابر ہوں؟ جبکہ قرآن میں بار بار اس بات کو مثالیں دیکر وہ دہرا چکا ہے کہ “یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے جیسے کہ اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتے ؟ یہاں صرف ایک سہارا ملتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ رحیم ہے؟ بے شک ہے ، کیایہ رعایت کم نہیں ہے بلکہ بہت زیادہ ہے کہ وہ فور ا“ سزا نہیں دیتا ۔؟ بلکہ زیادہ تر سزائیں وہاں کے لیے اٹھا رکھی ہیں؟
جبکہ ہم سب سے زیادہ لاپروائی حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق ا دا کرنے کے سلسلہ میں برتتے ہیں اوراسے قیامت تک کے لیئے اٹھا رکھتے ہیں کے جن کے معاف کرنے کااس نے وعدہ بھی نہیں کیاہے۔ ایسی صرف ایک حدیث ملتی ہے جو کہ ایک راوی نے جبل رحمت کے حوالے سے اور دوسرے راوی نے مذلفہ کے مقام کے حوالے سے بیان کی ہے جس سے کچھ امید پیدا ہوتی ہے جبکہ ا س کے برعکس معاف نہ ہونے کے سلسلہ میں بہت سی ا حادیث ہیں جن میں حضور (ص)نے راستہ بھی دکھا دیا ہے کہ یہیں سے ان سے اپنے معاملات طے کرلو ؟ ااور کسی بھی طرح منالو؟ جس کی شہادت حضور (ص) کے اپنے وصال سے پہلے کی آخری کاروائی سے ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے اعلانِ عام فر مادیا تھا کہ جس کا میری خلاف کوئی دعویٰ ہے وہ آجائے اور مطالبہ کرکے مجھ سے لے لے؟ یہ طریقہ تھا ان کا(ص) جن(ص) کے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اگلے اور پچھلے سب گناہ معاف فر مادیئے تھے۔ یہ طویل بحث میں نے اس لیے کی ہے کہ اگر ہر ایک اپنے حقوق جانتا ہو اور انہیں مد نظر رکھ کر بات کرے توکبھی بے انصافی نہیں کریگا کیونکہ تمام فتنے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ خصوصاً میاں بیوی کے درمیان ؟ جوکہ شیطان کی سب سے زیادہ پسندیدہ شکار گاہ ہے۔ اور جس سے سب سے زیادہ بچنے کی ہمیں تاکید بھی ہے۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY