گزشتہ قسط میں ہم اس پر با ت کر رہے تھے کہ جس طرح اچھے پھل لانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ تمام ضروری احتیاط اختیار کی جائیں ،وہی بچوں کو بہترین مسلمان اور انسان بنانے کے لیے بھی ضروری ہیں۔ ورنہ یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ وہ بچے پیدا کرسکیں جو آپ کے لیے دعا کریں یا وہ نیکیاں کریں جو والدین کے لیے صدقہ جاریہ بنیں؟ اس کے لیے ہم نے تجویز یہ پیش کی تھی کہ والدین اپنے بیٹے کے لیئے بیوی نیک ڈھوندیں ا ور اسی طرح لڑکی کے لیئے اس کے والدین داماد متقی تلاش کریں۔ پھر کہیں آپ نیک اولاد کی شکل میں مثالی اولاد پاسکیں گے ورنہ نہیں؟اور اس کے بعد بھی اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ جتنے آپ اچھی یونیورسٹیوں میں بچوں کو پڑھانے کے خواہشمند ہوتے ہیں اتنے ہی مذہبی تعلیم اور تربیت کی طرف بھی توجہ دیں؟ اصل میں اسلام ایک متوازن مذہب ہے مگر ہوتا یہ ہے کہ اگر ہم دین کی طرف لے جائیں تو بچوں کوصرف حافظ یا مولوی بنا دیتے ہیں؟ اور دنیا کی طرف لے جاتے تو دین کو فراموش کردیتے ہیں؟ جبکہ مسلمان کا دین اور دنیا علیحدہ نہیں ہے۔حضور (ص) کا ار شادِ مبارک ہے کہ “ اگرتم دین پر چلوگے تو دنیا خود بخود مل جائے گی لیکن اگر دنیا کے ہو رہو گے تو دین خود نہیں مل سکے گا جبکہ دنیا آخرت کے مقابلہ میں چند روزہ ہے ؟
لیکن ہماری اکثریت دنیا میں اتنی گم ہوجاتی ہے کہ وہ دنیا میں آنے کا مقصد ہی بھول جاتی؟ اور یہ بھی بھول جاتی ہے کہ دنیا دارالمحن(مشکلات سےپر) ہے جبکہ صالح اعمال کے بدلے میں جو زندگی وہاں مل نے والی ہے ،اس میں کسی قسم کی کوئی مشقت نہیں، جہاں کہ ہمیشہ رہنا ہے۔ یہ تھی ہماری وضاحت اس سلسلہ میں کہ دونوں متقی کیوں تلاش کیئے جائیں؟دوسرا جواب اس کیوں کا یہ بھی ہے کہ فارسی کی یہ کہاوت بڑی مشہور ہے کہ “کند ہم جنس باہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز با باز “ جس کامفہوم یہ ہے ایک ہی کی جنس کے پرندے ایک ساتھ اڑسکتے ہیں مختلف پرندے ایک ساتھ نہیں اڑتے؟ اسی لیے قرآن کی ایک آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمادیا ہے کہ “نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں ہیں اور برے مردوں کے لیے بری عورتیں ہیں “ اس بات کا خیال نہ رکھنا وہ بڑی وجہ ہے جس کی وجہ سے طلاق کی شرح مسلمانوں میں بھی بڑھتی جارہی ہے۔کیونکہ لڑکیوں میں تو تمام خوبیا ں لڑکوں کے والدین تلاش کرتے ہیں؟ مگر لڑکی والے لڑکے کو یہ کہہ کر چھوڑدیتے ہیں کہ “انسان ہے مرد کا بچہ ہے کما کر کھلا ئے گا؟ اور یہ ہی وجہ ہے کہ بے میل جوڑے یہاں آکر ایک دوسرے کے لیےوبال جان بن جاتے ہیں؟ کیونکہ وہ پیر یشر (Peer pressure )کا مقابلہ نہیں کر پاتے؟ جبکہ یہ معاملہ ان کے ساتھ پیش نہیں آتاجو کہ ایک جیسی طبعیت کے مالک ہونے کی وجہ سے برداشت کے عادی ہوتے ہیں اور اپنے اپنے فرائض ادا کرنے میں کوئی اجنبیت محسوس نہیں کرتے؟ مثلاً جو لوگ وہاں سےفجریا تہجد کی نماز کے پابند ہیں ان میں سے کسی کوبھی اس حدیث کی پابندی گراں نہیں گزرے جو حکم ہے کہ “جو بھی پہلے نیند سے بیدار ہو وہ دوسرے کو نماز کے لیئے ا ٹھادے اور نہ اٹھے تو اس پر پانی چھڑک دے تاکہ اس کی غنودگی دور ہو جا ئے“ اس کے لیے دونوں ثواب کے مستحق ہونگے۔ اگر وہ ہم خیال ہیں توایک دوسرے کہ شکر گزار ہونگے کہ آپنے مجھے اٹھادیا ورنہ میری نماز قضاء ہوجاتی؟ اگر بچے ہیں تو وہ بھی دیکھ کر سیکھیں گے؟ اس کے بر عکس اگر عادات میں تضاد ہے کہ ایک نماز کا پابند ہے اور دوسرا دیر سے اٹھنے کا عادی ہے، تو یہ ہی نیکی وجہ تنازع بن جا ئے گی اور بچے بھی ذہنی طور پر الجھ کر ذہنی مریض بن جائیں گے کہ ہم دونوں میں سے کس کا اتباع کریں؟اور پھر بات کہاں تک پہنچے گی اس ایک مثال سے اندازہ لگا لیجئے؟
اس کے بعد اب آتے ہیں ایک دوسرے کہ حقوق پر؟ پہلی بات تو یہ سمجھ لیجئے کہ بیوی کو سورہ البقرہ کی آیت نمبر 223 میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے “کھیتی “ سے تشبیہ دی ہے؟ چونکہ وہ ہر چیز پرقادر ہےیہاں اس نے ایک لفظ میں شادی کا مقصد اور شوہر کی ذمہ داری سب کچھ بیان فرمادیا ہے۔ اگر کوئی غور کرے تو؟ جو نہ کریں ان کے لیے کوئی بات ہی نہیں ہے۔ یہ آیت دو واضح ہدایات دے رہی ہے؟ جوکہ ماڈرن دنیا کے نظریہ کے قطعی مختلف ہیں کہ پہلے عیش کریں اور پھر فرصت ملے تو اولاد کی طرف توجہ دیں؟ یہاں شادی کا مقصد ہی نیک اولاد پیدا کرنا اور پرورش کرنا ہے۔اگر یہ نہیں ہے تو پھر کچھ بھی نہیں ہے؟ جو لوگ زراعت کے پیشے سے تعلق رکھتے ہیں؟ وہ اچھی جانتے ہیں کہ کاشتکار کا دار ومدار اچھی فصل پر ہوتا ہے اس لیئےکھیت کو تمام اس کی ضروریات فراہم کرتا ہے۔ اور بے انتہا خیال رکھتا ہے؟ جبکہ اسی سورہ کی آیت نمبر 228 میں آگے چل کر یہ فرمادیا ہے کہ دونوں پرایک دوسرے کےایک جیسے حقوق ہیں۔ (باقی آئندہ)













