علامہ سید ضمیر اختر نقوی۔ تحریر : علی اصغر

0
2638

محقق ، خطیب ، مصنف ، اسکالر اور شاعر و ذاکر اہل بیت حضرت علامہ سید ضمیر اختر نقوی /۔ تحریر : علی اصغر
انتخاب : ظفر معین بلے جعفری

ایک دن ضمیر اختر نقوی صاحب کا کلپ کسی نے مجھے وٹس اپ کیا،میں نے بھی انجوائے کرنے کی غرض سے ڈاون لوڈ کیا لیکن جب میں نے ان کے وہ الفاظ سنے تب میرے دل میں ان کا مقام بلند ہوتا گیا، وہ فرما رہے تھے” نام ضمیر ہے لیکن فقیر ہوں، مولا میرے جنابِ امیرؑ اور میں ان کا فقیر ہوں، پہچانا نہیں کراچی والوں نے، نام ضمیر ہے اسی لئے بے ضمیر نہیں ہوں، ساری زندگی آل محمدؑ کا ذکر کیا ہے اپنی جائیدادیں نہیں بنائیں، جتنا مولا کے نام پہ لیا مولا پہ ہی خرچ کردیا، اپنا مکان، گاڑی ، لباس،نہیں بنائے حتیٰ کے نئے جوتے بھی نہیں ہیں، جو کتاب اب لکھی ہے جس کا نام شہزادہ علی اکبرؑ ہے اس کو تیار کرنے پہ چودہ لاکھ روپے خرچ آئے ہیں مگر اس کا ہدیہ صرف دو ہزار رکھا یے اور اس کتاب کے ساتھ ایک کتابچہ بھی ہے جس میں گزشتہ اڑھائی سو سال میں علی اکبرؑ پہ جتنے نوحہ لکھے و پڑھے گئے سب جمع کئیے ہیں، اس کے علاوہ جو کماتا ہوں سب سرکارِ عباسؑ کو بھیج دیتا ہوں۔
یہ کلپ سننے کےبعد میں نے ضمیر اختر نقوی صاحب کے متعلق مذید جاننے کے لئے یوٹیوب پہ سرچ کیا تو مجھے وقار ذکاء کا ایک براہ راست شو نظر آیا جس میں اس نے ضمیر اختر نقوی صاحب کو ویڈیو کال پہ مدعو کیا اور ان سے بہت سخت سوالات کئیے، ایک طویل نشت کے اس پروگرام میں ایک لمحہ کے لئے بھی مجھے اکتاہٹ نہیں ہوئی ہر چبھتے ہوئے سوال کا اتنا مدلل اور تحمل مزاجی سے جواب کہ وقار ذکاء بھی عش عش کر اٹھتا، پھر میں نے سوچا کہ کیوں نے کمنٹ سیکشن میں جاکر لوگوں کے تاثرات پڑھوں، کمنٹ پڑھتے ہوئے مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی پاکستانی نوجوان ہیں جو ان کی میمز بنا کر مذاق بنایا کرتے تھے، ہزاروں کمنٹس میں شاید دو فیصد لوگوں کے منفی کمنٹس تھے باقی اٹھانوے فیصد لوگوں نے ضمیر اختر نقوی صاحب کی تعریف کی اور کچھ لوگوں نے تو ان سے باقاعدہ معافی بھی مانگی،
آپ نے مجلس پڑھتے ہوئے کبھی کسی سے فیس طے نہیں کی، کبھی کسی سے بدتمیزی سے پیش نہیں آئے، رمضان المبارک کی ٹرانسمیشن میں ببانگ دہل فضائلِ اہل بیتؑ بیان کئیے،سوچی سمجھی سازش کو اپنی علمی گفتگو سے ناکام بنا دیا، ضمیر اختر نقوی صاحب کے متعلق جو معلومات مزید میسر آئی ہیں وہ یہ کہ ڈاکٹر پروفیسر علامہ سید ضمیر اختر نقوی کی پیدائش ہند میں ہوئی۔ وہ 24 مارچ 1944ء میں بھارت کے شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید ظہیر حسن نقوی تھا جب کہ ان کی والدہ کا نام سیدہ محسنہ ظہیر نقوی تھا۔ پیدائش کے وقت نام ضمیر رکھا گیا تھا۔ 1967ء میں وہ نقل مقام کر کے پاکستان چلے گئے اور مستقلًا کراچی شہر میں سکونت اختیار کیے۔ تعلیمی اعتبار سے وہ لکھنؤ کے حسین آباد اسکول سے میٹرک پاس کیے اور گورنمنٹ جوبلی کالج، لکھنؤ سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیے۔ انہیں گریجویشن کی سند شیعہ کالج لکھنؤ سے حاصل ہوئی۔پروفیسر اور ڈاکٹر کا خطاب PhD کرنے کے بعد ملا۔

تصانیف

تاریخ مرثیہ نگاری
میر انیس، زندگی اور شاعری
مرزا دبیر حالاتِ زندگی اور شاعری
جوش ملیح آبادی کے مرثیے
شعرائے اردو اور عشق علی
اردو مرثیہ، پاکستان میں(1982ء)
خاندان میرانیس کے نامور شعرا
اردو ادب پر واقع کربلا کے اثرات
دبستان ناسخ
تذکرہ شعرائے لکھنؤ
اقبال کا فلسفہ عشق
شعرائے اردو کی ہندی شاعری
ابن صفی کی ناول نگاری
شعرائے مصطفی آباد
میر انیس (ہر صدی کا شاعر)
میر انیس کی شاعری میں رنگوں کا استعمال
میرانیس بحیثیت ماہرِ علمِ حیوانات
نوادرات مرثیہ نگاری(دو جلدیں)
The Study of Elegies Mir Anis
اردو غزل اور کربلا
سوانح حیات جنابِ فاطمہ زہرا سلام علیہا
سوانح حیات جنابِ خدیجۃ الکبریٰ
سوانح حیات جنابِ شہربانوؑ
سوانح حیات حضرت عباس علمدارؑ
سوانح حیات جنابِ شہربانوؑ
سوانح حیات شہزادہ علی اکبر ؑ
سوانح حیات جنابِ شہزادہ علی اصغرؑ
سوانح حیات شہزادہ قاسم ابنِ حسنؑ (دو جلدیں)
شہزادہ قاسم کی مہندی
معصوموں کا ستارا شہزادہ علی اصغرؑ
معراجِ خطابت (5 جلدیں)
مجالسِ محسنہ
عظمتِ صحابہ(عشرہ مجالس)
عظمتِ ابوطالبؑ (عشرہ مجالس)
امام اور اُمت (عشرہ مجالس)
ظہورِ امام مہدی (عشرہ مجالس)
احسان اور ایمان (عشرہ مجالس)
قاتلانِ حسینؑ کا انجام (عشرہ مجالس)
قرآن کی قَسمیں (عشرہ مجالس)
محسنین اسلام (عشرہ مجالس)
امہات المعصومین (عشرہ مجالس)
دس دن اور دس راتیں (عشرہ مجالس)
علم زندگی ہے (عشرہ مجالس)

ادب ، کلچر ، تاریخ ، فلسفہ ، سوشیالوجی ، لسانیات میں تین سو سے زائد کتب کے مصنف اور آئہمہ معصومین علیہ سلام اور حیات معصومین علیہ سلام پہ تقریبا 1 ھزار سے زائد کتب کے مصنف، پچاس ہزار سے زائد مجالس و لیکچرز دینے والے سکالر ۔ میر انیس و دبیر پر عبور رکھنے والے شاعر۔ ایک جملے میں پوری مجلس کہہ دینے والے خطیب ۔ میں نے آج تک کوئی ایسی شخصیت نہیں دیکھی جسکے ایک کے بعد ایک اتنے سارے جملے اسقدر مشہور ہوئے ۔

ستائیس رمضان المبارک کو میرے دوست ڈاکٹر سرور سید صاحب ضمیر اختر نقوی صاحب سے ملاقات کرنے گئے تو میری کتاب بھی ان کو پیش کی، ضمیر اختر نقوی صاحب نے کہا میری اس لڑکے سے بات کراو، ڈاکٹر سرور سید صاحب نے مجھے کال کی کہ ضمیراختر نقوی صاحب سے بات کریں، قبلہ نے کہا آپ کی کتاب کے انتساب نے ہی مجھے اسے پڑھنے پہ مجبور کردیا ہے، مجھ سے میرا نمبر لیا اوراپنا نمبر دیا، تقریباً ایک ہفتہ پہلے مجھے کال کی کہ علی اصغربیٹا میں آج کل مجالس میں تمہاری ہی کتاب کی تحریر مومنِ قریش سے پڑھ رہا ہوں،بہت دعائیں دیں۔

13 ستمبر 2020 آنکھ کھلتے ہی یہ غمناک خبر سنی کہ برصغیر میں اردو ادب کا ایک اور آفتاب اس دنیا سے غروب ہو کر جاگیرِ اہل بیتؑ میں جاکر طلوع ہوچکا ہے۔ رب العالمین سے دعا ہے کہ ڈاکٹر ضمیراختر نقوی صاحب کی مغفرت فرمائے، اور جوارِ محمد و آلِ محمدؑ میں جگہ عطاء فرمائے آمین۔

التماسِ سورہ فاتحہ 24 محرم الحرام یومِ وفات ضمیر اختر نقوی مرحوم

علی اصغر

………………………

 Published on: 14 Sep 2020 @ 01:00

معروف شیعہ عالم، لکھاری و خطیب علامہ ضمیر اختر نقوی 76 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے تھے جنکی نماز جنازہ انچولی میں ادا کی گئی جسکے بعد انہیں سپرد خاک کر دیا گیا

علامہ ضمیر اختر نقوی کو طبیعت خراب ہونے پر 12 اور 13 ستمبر کی درمیانی شپ کراچی کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہےکہ علامہ ضؐیر اختر نقوی کو عارضہ قلب پہلے سے لاحق تھا یا نہیں، تاہم عالم دین کے اہل خانہ نے تصدیق کی کہ ان کی موت حرکت قلب بند ہونے کے باعث ہوئی۔

علامہ ضمیر اختر نقوی سوشل میڈیا پر بھی بہت مشہور تھے، وہ اپنی تقریریروں، قصے و واقعات بیان کرنے کے حوالے سے منفرد شہرت رکھتے تھے۔

علامہ ضمیر اختر نقوی کو ‘لڈن جعفری’ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور ان کے بیانات کو سوشل میڈیا پر خوب شیئر کیا جاتا تھا۔

اہل خانہ کے مطابق علامہ ضمیر اختر نقوی کی نماز جنازہ آج بعد نماز مغرب کراچی کے انچولی کے علاقے میں امام بارگاہ میں ادا کی جائے گی۔

شیعہ عالم دین کے انتقال پر گورنر و وزیر اعلیٰ سندھ سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے علامہ صاحب کی خدمات کا اعتراف کیا۔
علامہ ضمیر اختر نقوی متحدہ ہندوستان میں قیام پاکستان سے قبل لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے، جو اس وقت بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کا دارالحکومت ہے۔

قیام پاکستان کے کچھ ہی سال بعد علامہ ضمیر اختر نقوی اہل خانہ سمیت ہجرت کرکے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی آگئے تھے اور وہیں انہوں نے مکمل سکونت اختیار کرلی تھی۔

علامہ ضمیر اختر نقوی نے ابتدائی تعلیم لکھنؤ میں ہی حاصل کی، تاہم پاکستان منتقل ہونے کے بعد کراچی سے انہوں نے مزید تعلیم حاصل کی۔

علامہ ضمیر اختر نقوی کے قریبی ذرائع کے مطابق انہوں نے مختلف موضوعات پر 200 سے زیادہ کتابیں لکھیں، جن میں سے زیادہ شیعہ مسلک سے متعلق موضوعات پر تھیں۔

علامہ ضمیر اختر نقوی شاعری بھی کرتے تھے جب کہ انہیں صحافت اور سیاسی حالات سے بھی کافی دلچسپی تھی۔

علامہ ضمیر اختر نقوی کی وفات پر متعدد عالم دین نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی موت کو بہت شیعہ مسلک کے لیے نقصان قرار دیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY