امی کی چھٹی برسی۔
میری ماں ۔ شمس الز ہرہ نام کی نہیں عمل کی شمس
مانند شمس ایک زندہ اور روشن دلیل کی مانند
ہماری زندگیوں کو ہمیشہ ہمیشہ جگمگاتی رہیں گی۔
ماں کی پانچویں برسی پر
اپنی ماں کو سفر آخرت کے لیے سفید جوڑا پہناتے ہوئے میں خود کلامی کررہی تھی کبھی میری ماں مجھے صبح صبح سکول جانے کے لیے تیار کرتے وقت سفید کپڑے پہنا تی ہونگی، مگر انھوں نے تو مجھے زندگی سے بھر پور ایک ایسے سفر کے لیے تیار کیا تھا، جو سب پر آشکارہ ، رعنائیوں، ہنگاموں اور خوشیوں سے بھر پور تھا ، مگرمیں جس سفر کے لیے ماں کو تیار کر رہی تھی، اس میں تو وہ خاموشیوں کی گود میں سونے جارہی تھی۔
میں نے بار بار ماں کے سرد جسم کو چھوا، مجھے یقین نہیں آرھا تھا کہ میری ماں خاموش ہوچکی ہیں۔
میرے ذہن میں فلم سی چل رہی تھی، اس عورت کی، اس شمس الزہرہ کی جس کی زندگی جوانی سے بڑ ھاپے تک جہد مسلسل کا عملی نمونہ تھی،
ان کا بچپن اپنے والدین کے سائے میں ہنستے بستے گزرا۔ میرے نانا بہت کامیاب پولیس انسپکٹر تھے،
مگرتقسیم ہند کے بعد پاکستان میں ہمارے خاندان میں روپے پیسے کی فراوانی تو کجا، ضروریات زندگی کا بمشکل اہتما م ہو پاتا تھا۔ بس سفید پوشی کے بھرم کے سہارے زندگی گزر رہی تھی۔ میں تصور کرسکتی ہوں کہ میری ماں سیدہ شمس ازہرہ زیدی کے لیے جنھوں نے ایک پرآسائش زندگی گزاری تھی ، یہ کس قدر مشکل وقت ہوگا۔
طرز زندگی میں یکد م تبدیلی اور معاشی تنگد ستیوں کے گونا گوں مسائل کے باوجود میری ماں لڑکیوں کی تعلیم کی شدت سے داعی تھیں، تعلیم کی اہمیت کا انھیں نہ جانے کیسے اتنا احسا س ہے، یہ کوئی پچاس برس قبل کی بات ہے اس وقت تعلیم لڑکیوں میں تو کیا لڑکوں میں بھی عام نہیں تھی۔

میری ماں کے سامنے کوئی رول ما ڈ ل نہیں تھا، وہ خود کسی بھی
سکول یا کالج سے فارغ اتحصیل نہیں تھیں۔ ان کا تعلق ایک ایسے سید گھرانے سے تھا، جہاں لڑکیوں کو زیور علم سے آراستہ تو کیا جاتا تھا مگر غیر رسمی طور پر، میری والدہ کو پڑھانے کے لیے استاد گھر میں آتے تھے، مگر انھیں گھر سے باہر نکل رسمی امتحان پاس کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
مگر ان میں بلا کا اعتماد تھا، انتہا کا شعور تھا، مستقبل کا ادراک تھا۔
سرگو دھا آج والا شہر نہیں تھا، یہاں لڑکیوں کے لیے تعلیمی سہولتیں نہ ہونے کے برا بر۔
یہا نتک کہ اس زمانے میں سرگودھا میں اکثر والدین اپنی لڑکیوں کو بغیر کسی گھر کے مرد گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے۔
ایسے ماحول میں میری ماں نے دلیرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ میری لڑکیاں تعلیم حاصل کریں گی، اپنے مستقبل خود بنائیں گی۔
اور پھر میری ماں کے اس فیصلے پر تو شہر سر گودھا کے کئی لوگوں نے دانتوں تلے اپنی انگلیاں داب لیں کہ میری بیٹیاں طے شدہ رواجوں کے مطابق سیاہ برقعوں میں نہیں بلکہ سیرت کردار اوڑھ کر گھروں سے باہر نکلے گیں، اپنی تعلیم کے لیے، اپنے روزگار کے لیے، اپنی ضروریات زندگی کے لیے، کسی کی محتاج نہیں ہونگی۔
کیا با کمال شخصیت تھی میری ماں روائتی گھرانوں سے بلکل مختلف،
جب والدین سکولوں میں چند کلا سیں پڑھا پڑھا کر اپنی بیٹیوں کو جائز اور ناجائز ذرائع سے حاصل کے گئے وسائل سے بھاری بھاری جہیزوں کے انباروں میں دبا کر ان کے شوہروں کے حوالے کرنے کی تیاریاں کر رہے ہوتے تھے،
تو میری ماں رشتوں اور جہیز کی فکر کرنے کے بجائے اپنی بیٹیوں کو سکول کے بعد کالج اور کالج کے بعد دوسرے شہروں میں یونیورسٹی بھیجنے کے خواب بنا کرتی تھیں۔
میرے بارے میری والدہ کی سوچ کی اڑان یہ تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں یا سول سروسز کے امتحان یعنی سی ایس ایس کا امتحان پاس کروں۔ اور یقین کریں اس وقت میری ماں کے سامنے ملنے والوں میں اور عزیزوں میں ایسی کوئی مثال تھی۔
پرور دگار کے فضل و کرم سے ہم چھ بہنیں ہیں، ہمارے سماج میں لڑکی کی پیدائش آج بھی کسی المیے سے کم نہیں، مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے، کہ میری سب چھوٹی بہن ڈاکٹر نیلو فر سلیم کی پیدائش پرچند خواتین ماں کے پاس تعزیت کے لیے یعنی پرسہ دینے ائیں تھیں۔
مگر میری ماں نے بیٹے کے نہ ہونے کو کبھی اپنی محرومی سمجھا ہی نہیں۔ انھوں نے کبھی بیٹیوں کو بوجھ نہیں جانا۔
ماں نے ہم سب کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پرو فیشنل بنایا۔
قدرت کا اہتمام دیکھئے کہ وہ ہی تمام لڑکیاں جنھیں کمتر سمجھا جاتا تھا، اپنے ماں باپ کے ہر اس زخم کا مداوہ بنیں جو انھوں نے اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت میں اہل سماج اور خود کئی عزیز رشتہ داروں کے تعن و تشنیع کی صورت میں کھائِے تھے۔
اور اللہ نے بھی کیا خوب صلہ دیا میری ماں کو، ایسے داماد د یے جو قا بل رشک تھے، جنھوں نے ہماری ماں کو ساس نہیں، ہم سے بڑھ کر ماں کا درجہ دیا، میں نے ہم سے بڑھ کر اس لیے کہا کہ کسی دوسری ماں کو عزت و محبت دینا کچھ آسان نہیں، یقیناً صاحب اوصاف لوگوں کا عمل ہے۔ قابل ستائش ہیں ان سب کے والدین جنھوں نے اپنی اولاد کو محبت اور اخلاق کے زیور سے آراستہ کیا۔
اور کتنی زیاتی ہوگی اگر میں ان کے نواسے اور نواسیوں کا ذکر نہ کروں جو اپنی نانی ’ اپنی نننا ’ کو پروانہ وار چاہتے تھے۔
وہ بھی کیا خوبصورت دن تھے، جب تعطیلات میں سب نانا نانی کے گھر جمع ہوتے تو نننا سے قریب تر ہونے اور ان کی گود میں سر رکھنے کے لیے آپس میں کیا خوبصورت نوک جھوک ہوتی۔ اگر ایک نواسہ کہتا میں بہت دور سے نننا سے ملنے آیا ہوں میرا ان پر زیادہ حق ہے، تو کوئی نواسی محض چڑانے کو کہتی، ہم ان کے پاس رہتے ہیں ہم ان سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔
میری ماں آپ ان بچوں کے لیے صرف نانی نہیں بلکہ ’ اپنی اندر ایک ادارہ ’ تھیں، ایک ایسا ادارہ جس نے انھیں محبت کی تہذیب سے سیراب کیا۔
مجھے قوی امید ہے کہ یہ بچے آپ کے نقش پا پر چلتے ہوئے رشتوں میں محبتوں کا یہ انمول اثاثہ اپنی ائیندہ نسلوں کو منتقل کرنے میں فخر محسوس کریں گے۔
دو نواسے اور ایک نواسی نا نی کے وقت آخر بیرون ملک سے بروقت واپس پہنچ گئے، نواسیاں غسل و کفن میں شامل رہیں جبکہ تین نواسوں نے سب عزیزوں و اقارب کے ساتھ ملکر انھیں منزل آخرتک پہنچایا، جو نواسا اور نواسیا ں فاصلوں اور وقت کی مجبوریوں کے باعث اپنی نننا کے اس کار آخر میں شریک نہ ہو سکے، وہ دکھ اور صدمے سے تڑپتے رہے۔
اے عظیم ماں، آپ جیسی ما ں ملنے پر ہم سب خدائے بزرگ و برتر کے سامنے سر بسجود ہیں۔ میری پیاری ماں، ہمیں آپکی اب بھی ضرورت تھی، اپنی عبادت کے لیے، آپ کو معلوم ہے نا کہ والدین کی خدمت اولاد پر فرض ہے، مگر آپ جو برسوں سے اپنی بیماری کو ہراتی آرہی تھیں اس مرتبہ اس سے ہار گئیں،
ماں میں تو آپ کی خرابیء طبعیت کا سن کر روانہ ہوچکی تھی۔ آپ صرف چھ گھنٹے نہ رک سکیں، ماں آپ تو اپنی اس بیٹی کا سال سال بھر انتظار کرتیں تھیں۔
ماں: ایک پرآزمائش مگر کامیاب زندگی گزار کر تین دن اذیت میں رہ کر چودہ جون شب گیارہ بج کر بیس منٹ پر میری چھوٹی بہن گلناز ابراہیم کے گھر میں، جہاں برسوں سے مقیم تھیں، ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئیں،
مگر ماں آپ تو شمس الزہرہ ہیں نا: مانند شمس ایک زندہ اور روشن دلیل کی مانند ہماری زندگیوں کو ہمیشہ ہمیشہ جگمگاتی رہیں گی۔
ماہ پارہ صفدر













