حضرت انسان کی اس زمین پر عمر 2 لاکھ سال ہے یعنی اب سے 2 لاکھ سال قبل زمین پر انسانوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔۔۔انسان نے عدم سے وجود میں آتے ہی ایک سے دو اور دو سے مزید افراد کا ساتھ حاصل کرنا چاہا یعنی اپنے جیسوں کا ساتھ حاصل کرنے کے لئے ہی بستیاں بسائیں ۔۔ اور آپس کے تعلق سے کونے والے فوائد کا جب شعور حاصل کیا تو انہی بستیوں کے لئے معاشرے جیسی اصطلاح رائج ہوئی۔۔۔۔ قدرت نے وسائل سے نوازہ تو حیات انسانی نے نمو پائی ۔۔۔۔ انسان نے مہلک جانوروں سے اپنا دفاع کرنا سیکھا سمندروں جنگلوں اور صحراوں سے بھی اپنا رزق حاصل کیا پھر اپنی رہائش کیلئے غاروں کے بجائے سائبان بنائے خود کو موسموں کی شدت سے محفوظ رکھنے کے لئے جانوروں کی کھال درخت کے پتوں یا چھالوں سے ملبوس تیار کیئے۔۔اور پھر وقت کےساتھ ساتھ جب زندگی کی بقاء و قیام کے لئے اسکی ضروریات پوری ہونے لگیں تو اس نے خود کو مزید تقویت پہنچانے کے لئے آسائشوں کا اہتمام کیا۔۔نت نئے ذائقہ، نئے پہناوئے اور رہائش کو بلند و بالا مکانات ۔۔پھر کیا تھا مرغذاروں اور کوہساروں کے سلسلے مختصر کر کے رہائشی علاقوں میں توسیع کی گئی ۔۔۔۔ اپنے جمالیاتی ذوق کی تسکین کیلئے ضروریات میں بھی انواع و اقسام کے ملبوسات سجاوٹی اشیاء ترش و شیریں غذا ، خوشبویات ،طولِ عمر پانے کے لئے نسخہ جات و طاقتور ادویہ غرض یہ کہ ان تمام کیمیائی اجزاء کی صورت میں جانے کیا کچھ اپنے ارد گرد ہم۔انسانوں نے جمع کرلیا
اس کائنات کی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب انسان نے فطرت سے انحراف کیا۔۔۔ فطر ت نے بھی اسے اس بغاوت کے عوض اسکے مقام اور ذمہ دارداریوں سے بے خبر بنادیا ۔۔۔
اسکا معاشرہ کی پرواہ نہ کرنا ، سماجی اصول وضوابط کے خلاف ورزی کرنا، سماجی ذمہ داریوں سے الگ تھلگ رہنا ایسے اعمال ہیں جورفتہ رفتہ خدا کے چہیتے اشرف المخلوق انسان کو انسانیت کے دائرے سے بھی نکال کر حیوانیت کے دائرہ میں داخل کردیتے ہیں اور دوسری صورت میں انسان آہستہ آہستہ سنگ دلی اور شقاوت کا شکار ہوجاتا ہے یا پھر ایک دوسرے پر برتری کا شوق تنہائی کا سبب بن جاتا ہے
جبکہ اس سے پیشتر انسان نے ہر دور میں کوشش کی ہے کہ اس کی معاشرتی زندگی مستحکم رہے۔ ہم جب حیاتِ انسانی کے ارتقا پر نظر ڈالیں تو ہمیں اِس کا رُخ اجتماعیت کی طرف نظر آتا ہے۔ تاریخِ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دیئے اور گردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا۔ ’’قرآن کریم‘‘ نے بھی مختلف قوموں کی تباہی کا ذِکر کیا ہے۔
قرآن پاک نے انسان کی اس ذہنی کیفیت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے۔۔
تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا ( 44 ) 
سورہ فرقان
“کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ (نہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں”
باالفاظ دیگر یہ لوگ انسان ہونے کے باوجود اس کائنات میں اپنی حیثیت کا ادراک نہیں رکھتے۔۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ مغرب کی نقالی ان کی تہذیب اور کلچر کے اعتبار سے تو کرنے کے لیے مستعد ہیں ، مگر اجتماعی زندگی کے بارے میں ان کی ذمہ دارانہ روش اور اخلاقی خوبیاں اخذ کرنے کے معاملے میں بالکل پیچھے ہیں۔وہ بے شک مادہ پرست ہیں ، مگر ان کی اکثریت اجتماعی معاملات میں اعلیٰ اخلاقی روش کی پابند ہے،مگر ہم اسلام کے نام لیوا ہونے کے باوجود اجتماعی اخلاقیات کے بارے میں ہر سطح پر بدترین روش کا مظاہرہ کرتے ہیں۔مسلم قوم کی عصبیت کے خاتمے ، انتہا پسندی اور مغربیت کے فروغ کے ساتھ ساتھ یہ اخلاقی انحطاط، بلاشبہ قومی سطح پر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔۔۔بہت حال موجودہ حالات میں سوال یہی اٹھتا ہے کہ کیا اب بھی اس نوع انسان سے کوئی امید باقی
قوم کے دو بنیادی حصے ہوتے ہیں: ایک فعال طبقہ جو قیادت اور اشرافیہ پر مشتمل ہوتا ہے اور دوسرے غیر فعال عوام الناس ۔قوموں کی راہوں کا تعین پہلا طبقہ کرتا ہے اور اس طبقہ کی رہنمائی فکری قیادت کیا کرتی ہے۔۔۔ اس لئے اس طبقہ پر معاشرے کے دیگر طبقات کی ذمہ داری چیزوں تر ہوجاتی ہے کہ جو رہنمائی سے متعلق ہوتی ہے۔۔
افسوسناک یہ ہے کہ ہمارے قومی مزاج میں پیدا ہونے والے بعض منفی رجحانات، مثلاً جذباتیت، انتہا پسندی، ظاہر پرستی، اخلاقی انحطاط اور علمی جمود نے کسی حقیقی فکری قیادت کے پنپنے کے امکانات بہت محدود کردیے۔۔ شاید موجودہ حالات اسی لئے قدرت نے پیدا کئے انسان کی اس تیز تر تبدیلئ حیات کو کچھ لمحے توقف عطا کرے ۔۔اور پھر تمام نظام فطرت کے اصولوں کی جانب پلٹے ایک دوسرے کی قربت کو حاصل کرنے کے لئے دوبارہ بیتاب ہو۔۔ اپنی نوع کو بچانے کے لئے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ذاتی اختلافات کو پس پشت ڈال دے اور صرف بقاء کی جنگ سمجھتے میدانِ عمل میں ڈٹ جائے ۔۔۔جیسے شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے فرمایا
۔’’بنی آدم اعضائے یک دیگر اند
کہ در آفرنیش ز یک جوہر اند
چو عضوے بدرد آورد روزگار
دگر عضوہا را نماند قرار‘‘
یعنی بنی نوع انسان باہم ایک دوسرے کے اعضا ہیں۔ ان کی تخلیق ایک ہی جوہر سے ہوئی ہے۔ اگر جسم کے کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچے تو دوسرے اعضا بھی بے قرار ہو جاتے ہیں ۔۔
یہی اقبال نے تمنا کی کہ میرے دل میں انسان سے ہمدردی کے سوا کوئی لگن باقی نہ رہے ۔ دراصل اقبال اپنی کی دعا سے ہمیں سکھلا رہے ہیں کہ
صدمہ آجائے ہوا سے گُل کی پتّی کو اگر
اشک بن کر میری آنکھوں سے ٹپک جائے اثر
دل میں ہو سُوزِ محبت کا وہ چھوٹا سا شرر
نور سے جس کے ملے رازِ حقیقت کی خبر
شاہدِ قُدرت کا آئینہ ہو ، میرا دل نہ ہو
سر میں جُز ہمدردیٔ انساں کوئی سودا نہ ہو














بہت معذرت لیکن عوام غیر فعال کیونکر ٹھہرے؟ عوام الناس کو ورکنگ کلاس کہا جاتا ہے تو انہیں غیر فعال کن معنوں میں سمجھا جائے؟ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ
سوائے ووٹ ڈالنے کے ان کے پاس قوم کی تقدیر بدلنے کا فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی ۔
مجموعی طور پر اچھا مضمون ہے