جون ایلیا 14 دسمبر، 1937ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے

0
2760

صفدر ھمٰدانی

جون ایلیا (14 دسمبر، 1931ء – 8 نومبر، 2002ء) برصغیر ‏میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار ‏اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے ‏تھے۔ وہ معروف صحافی رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے ‏بھائی، اور مشہور کالم نگار زاہدہ حنا کے سابق خاوند تھے۔ جون ایلیا کو ‏عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی میں اعلی مہارت ‏حاصل تھی۔

جون ایلیا 14 دسمبر، 1937ء کو امروہہ، اتر پردیش کے ایک ‏نامور خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب ‏سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیا کو فن ‏اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر ‏بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل ‏بھی انہی خطوط پر کی۔ انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 ‏سال کی عمر میں لکھا۔ اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں ‏قلم طراز ہیں:‏
‏”میری عمر کا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم ‏اور ماجرا پرور سال تھا۔ اس سال میری زندگی کے دو سب ‏سے اہم حادثے، پیش آئے۔ پہلا حادثہ یہ تھا کہ میں اپنی ‏نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ ‏لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا۔ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں ‏نے پہلا شعر کہا:‏

چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی”

جون اپنے لڑکپن میں بہت حساس تھے۔ ان دنوں ان کی کل ‏توجہ کا مرکز ایک خیالی محبوب کردار صوفیہ تھی۔
ان ‏کے غصے کا نشانہ متحدہ ہندوستان کے انگریز قابض تھے۔

وہ ‏ابتدائی مسلم دور کی تاریخ ڈرامائی صورت میں دکھاتے تھے جس ‏وجہ سے ان کے اسلامی تاريخ کے علم کے بہت سے مداح ‏تھے۔
جون کے مطابق ان کی ابتدائی شاعری سٹیج ڈرامے کی ‏مکالماتی فطرت کا تاثر تھی۔
ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا ‏امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے۔ یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے۔چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اس لئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔حضرت علی علیہ السلام کی ذات مبارک سے انہیں خصوصی عقیدت تھی اور انہیں اپنی سیادت پر بھی ناز تھا۔۔ سعید کہتے ہیں، “جون کو زبانوں ‏سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ ‏عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں، ‏انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں کچھ مہارت ‏حاصل کر لی تھی۔”‏

اپنی جوانی میں جون کمیونسٹ خیالات رکھنے کی وجہ سے ‏ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے لیکن بعد میں اسے ایک ‏سمجھوتہ کے طور پر قبول کر لیا۔ ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ‏ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی ‏حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی ‏عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور ‏پذیرائی نصیب ہوئی۔

جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انہیں اپنا تحریری کام شائع ‏کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ‏شاید اس وقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی۔ ‏نیازمندانہ کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش ‏لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ‏ہے جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی ‏شاعری کا دوسرا مجموعہ یعنی ان کی وفات کے بعد 2003ء میں ‏شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان گمان 2004ء میں شائع ہوا۔
جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی ‏پسند اور فوضوی تھے۔ ان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو ‏مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی ‏محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔
جون ایلیا تراجم، تدوین اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی ‏مشغول رہے۔ لیکن ان کے تراجم اور نثری تحریریں آسانی سے ‏دستیاب نہيں۔ ‏
فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی ‏سائنس، مغربی ادب اور واقعۂ کربلا پر جون کا علم کسی انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی ‏شاعری میں بھی داخل کیا تا کہ خود کو اپنے ہم عصروں سے نمایاں ‏کر سکيں۔
ازدواجی زندگی
جون ایک ادبی رسالے انشاء سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ‏ملاقات اردو کی ایک اور انتھک مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے ‏بعد میں انہوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا اپنے انداز کی ایک ترقی ‏پسند دانشور ہیں اور اب بھی دو روزناموں، جنگ اور ایکسپریس، ‏میں حالات حاضرہ اور معاشرتی موضوعات پر لکھتی ہیں۔ جون کے ‏زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوئے۔ 1980ء کی دہائی کے وسط ‏میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی ‏حالت ابتر ہو گئی۔ وہ پژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کر ‏دی۔
وفات
جون ایلیا طویل علالت کے بعد 8 نومبر، 2002ء کو کراچی میں انتقال کر ‏گئے۔

ظفر سید نے اپنے ایک مضمون میں اس نابغہ شاعر کا کیا خوب احاطہ کیا ہے
یہ مضمون انہوں نے دوہزار تیرہ میں لکھا تھا

جون ایلیا کی کل چھ کتابیں ہیں لیکن ان میں سے پانچ ان کی وفات کے بعد شائع ہوئیں
اردو میں شاعروں کی کوئی کمی نہیں، ایسے حالات میں کسی ایسے شاعر کا اپنا الگ مقام بنا لینا حیران کن ہے جس کا پہلا شعری مجموعہ ان کی زندگی کے 60ویں برس سے پہلے شائع نہیں ہو سکا۔
لیکن دیکھا جائے تو یہ بات اتنی حیران کن بھی نہیں، کیوں کہ جون ایلیا ایک ایسے منفرد اور یگانہ شاعر ہیں جس کا انداز نہ تو پہلے گزرنے والے کسی شاعر سے ملتا ہے اور نہ ہی بعد میں آنے والا کوئی شاعر ان کے لہجے کی تقلید کر سکا۔ وہ اپنے سلسلے کے آپ ہی موجد اور آپ ہی خاتم ہیں۔
جون کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ عشق و محبت کے موضوعات کو اردو غزل میں دوبارہ لے آئے۔ غزل کا روایتی مطلب بے شک ’عورتوں سے باتیں کرنا‘ ہو، لیکن عالمی تحاریک، ترقی پسندی، جدیدیت، وجودیت اور کئی طرح کے ازموں کے زیرِ اثر جون ایلیا کی نسل کے بیشتر شاعروں کے ہاں ذات و کائنات کے دوسرے مسائل حاوی ہو گئے۔
جون ایلیا پر خصوصی گوشہ جون ایلیا کا نثری مجموعہ فرنود
جون نے اس کسی حد تک نظرانداز شدہ رومانوی مضامین کو دوبارہ اپنی غزل کا موضوع ضرور بنایا لیکن وہ روایت کے رنگ کے رنگ میں نہیں رنگے، بلکہ انھوں اس قدیم موضوع کو ایسے منفرد انداز سے برتا کہ ان کی آواز پرانی ہونے کے ساتھ ہی ساتھ بیک وقت نئی بھی ہے۔
جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ کے ایک علمی اور ادبی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے بھائی رئیس امروہوی بھی نمایاں شاعر تھے اور انھوں نے جنگ اخبار میں روزانہ قطعہ لکھ کر شہرت حاصل کی۔
جون کے ایک اور بھائی سید محمد تقی تھے جو نامور صحافی گزرے ہیں۔ اس کے علاوہ جون کے بھانجے صادقین تھے، جو ممتاز مصور اور خطاط ہونے کے ساتھ رباعی کے عمدہ شاعر بھی تھے۔
جون ایلیا کو اقدار شکن، نراجی اور باغی کہا جاتا ہے۔ ان کا حلیہ، طرزِ زندگی، حد سے بڑھی ہوئی شراب نوشی، اور زندگی سے لاابالی رویے بھی اس کی غمازی ہوتی تھی۔ لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اس طرزِ زندگی کو اپنے فن کی شکل میں ایسے پیش کیا شخص اور شاعر مل گئے اور کہ من تو شدی و تو من شدی والی کیفیت پیدا ہو گئی۔
تم بنو رنگ، تم بنو خوش بُو ہم تو اپنے سخن میں‌ ڈھلتے ہیں
اور اس سخن میں وہ یوں ڈھلے کہ جیسا باغیانہ رویہ انھوں نے دنیا سے اپنایا تھا وہ محبوب سے بھی اختیار کر لیا:
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھ مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا؟
یہ روایتی غزل کے شاعر کا مفعولی، شکست خوردہ لہجہ نہیں ہے۔ یہ وہ عاشق نہیں ہے جو محبوب کے سامنے بچھ بچھ جاتا ہے اور اس کے ایک اشارے پر دل، کلیجہ اور جگر نکال کر سامنے دھر دیتا ہے۔ بلکہ اسے محبوب سے ’دھول دھپا‘ کرنے کے لیے ’عذرِ مستی‘ کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی:
اے خوش خرام پاؤں کے چھالے تو گن ذرا تجھ کو کہاں کہاں نہ گھماتا رہا ہوں میں
یہ شعر اور کون کہہ سکتا تھا؟
یاسمن، اس کی خاص محرمِ راز یاد آیا کرے گی اب تو بھی!
محبوب کے ساتھ ان کا بے باکانہ اردو میں بے حد نرالا ہے۔ یہ بے باکی بعض اوقات جارحیت تک میں بدل جاتی ہے۔
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش اس زباں دراز کا منھ نوچ لے کوئی
اور اس شعر کا کھلا کھلا ہرجائی پن ملاحظہ ہو:
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ھوئی لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ھوں میں
یہ اشعار نہ صرف اپنے مضمون بلکہ انداز اور اسلوب کے لحاظ سے بھی چونکا دینے والے ہیں۔
جون نے جو بے تکلفانہ اور لاگ لپٹ سے پاک انداز محبوب سے اپنا رکھا تھا، وہ دوسرے موضوعات کو بھی اسی لاٹھی سے ہانکتے ہیں:
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا؟
اسی غزل کا ایک اور شعر ضرب المثل بن گیا ہے، یا اگر نہیں بنا تو جلد ہی بن جانا چاہیے:
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا؟
جون نے اپنی زندگی بے حد بے پروائی سے گزاری۔ وہ خود کہتے ہیں:
نہیں دنیا کو جب پروا ہماری تو پھر دنیا کی پروا کیوں کریں ہم؟
شاید اسی لیے انھوں نے مجرمانہ حد تک اپنی شاعری کی نشر و اشاعت سے پہلو تہی کی۔ لیکن اس کے باوجود دنیا ان کی پروا کرنے پر مجبور ہے اس لیے آج انھیں رزقِ خاک بنے ہوئے دس برس گزر گئے لیکن اردو دنیا ان کی یاد کو اب بھی سینے سے لگائے ہوئے ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہ حادثہ بھی لکھو معجزوں کے خانے میں
جو رد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
بولتے کیوں نہیں مِرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا
حاصل کن ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھی اتنی عجلت میں
کس کو فرصت ہے مجھ سے بحث کرے
اور ثابت کرے کہ میرا وجود
زندگی کے لیے ضروری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیمار پڑوں تو پوچھیو مت
دل خون کروں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے حال اپنا
کہہ بھی نہ سکوں تو پوچھیو مت
ڈر ہے مجھے جنون نہ ہو جائے
ہو جائے جنوں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے عاجز آ کر
ہنسنے لگوں تو پوچھیو مت
آتے ہی تمھارے پاس اگر میں
جانے بھی لگوں تو پوچھیو مت
جون ایلیا

SHARE

LEAVE A REPLY