میچ کے تیسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو نیوزی لینڈ نے دو وکتوں کے نقصان پر 131رنز بنائے تھے، روس ٹیلر 53 گیندوں پر 49 اور لیتھم 44 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کو اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے مزید 197رنز درکار ہیں

دوسری اننگز میں بھی نیوزی لینڈ کا آغاز کچھ اچھا نہ تھا اور جیت راول ایک مرتبہ یاسر شاہ کی وکٹ بنے اور اسٹمپ پو گئے۔

10رنز پر پہلی وکٹ گرنے کے بعد ٹام لیتھم اور کین ولیمسن نے اسکور کو آگے بڑھانا شروع کیا اور 56رنز کی شراکت قائم کی لیکن 66 کے مجموعے پر کین ولیمسن وکٹوں کے عقب میں اپنے ہم منصب کو کیچ دے بیٹھے۔

روس تیلر وکٹ پر آئے تو ابتدا میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد انہوں نے اپنا روایتی جارحانہ انداز اپنانے کا فیصلہ کیا اور یہ فیصلہ کسی حد تک درست ثابت ہوا۔

بارش کے باعث میچ کا آغاز تاخیر سے ہوا تاہم نیوزی لینڈ کی جانب سے پاکستان کی طرح ہی سست بیٹنگ کا مظاہرہ کیا جارہا تھا۔

تاہم یاسر شاہ نے نیوزی لینڈ کے جیت راول کو 50 کے مجموعی اسکور پر آؤٹ کرکے پاکستان کو پہلی کامیابی دلوائی۔

لیگ اسپینر نے تباہ کن باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 61 کے مجموعی اسکور پر اپنے ایک ہی اوور میں ٹام لیتھم، روس ٹیلر اور ہینری نکولس کی اننگز کا خاتمہ کرکے میچ پاکستان کی گرفت میں کردیا۔

یاسر شاہ نے گھومتی ہوئی گیندوں میں مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں کو الجھائے رکھا اور پوری ٹیم کو 90 رنز پر آل آؤٹ کردیا۔

کیوی ٹیم فالو آن کا شکار ہوئی تو پاکستانی کپتان سرفراز احمد نے مہمان ٹیم کو دوبارہ بیٹنگ کی دعوت دی۔

یاسر شاہ نے ایک دن میں دس وکٹ لیئے اور پہلے پاکستانی کھلاڑی بنے

SHARE

LEAVE A REPLY