بھی فیس بک کھولی ۔۔ رات بھر کے نوٹیفکیشن دیکھ کر حسبِ ضرورت کمنٹس و لائک سے نوازنے کے بعد ۔۔۔ مختلف دوستوں کی جانب سے کی گئی پوسٹس دیکھ رہی تھی کہ اچانک ہمارے ایک دوست کی وال سامنے آ ئی کافی حیرانی ہوئی انہوں نے اطلاع دی ہے کہ وہ چاند پر جا رہے ہیں کسی نے ستارے منگوانے ہوں تو آ رڈر بک کروا دے ۔ بڑی دلچسپ پوسٹ ہے ۔۔ اور لوگ تو انّے وا بکنگ کروا رہے ہیں۔۔ پتہ نہیں کیا بھاؤ مل رہے ہیں ستارے ۔۔۔ بھائی حضرات تو کلو کلو کا آرڈر دے رہے ہیں معلوم نہیں کس کس کی مانگ میں بھرنے ہیں ہم نے بھی ایک تولہ منگوا لیئے ۔۔ بچپن سے خواہش تھی ناک کی لونگ بنوانے کی ۔۔۔ جب عشرت فاطمہ نے نئی نئی ہیرے کی لونگ بنوائی تھی اور خبریں پڑھنے کے دوران جب وہ لشکارے مارتی تو ان لشکاروں کی لَو پر ہمارا دل بھی رقص کرتا تھا تب سوچا کرتے تھے جب بڑے ہوکر آ سمان کی سیر کو جائیں گے تو ایک ذرّہ کسی ستارے کا توڑ لائیں گے تاکہ لونگ بنوا سکیں ۔۔۔ پھر مسرت نذیر بھی لونگ گواچنے کا چرچا کرنے لگیں۔ جب وہ سر کو دائیں بائیں گھما کر بڑی ادا سے بتاتیں کہ ان کا لونگ گواچ گیا ہے تو ہمیں بڑا دل چسپ لگتا دل کرتا ہم بھی دائیں بائیں سر کو گھمائیں اور ہمارا لونگ بھی گواچ جائے ۔۔ آ ہم آ ہم ۔۔۔۔ ہم نے والدہ سے بڑی ضد کی کہ ایسا ہی ایک لونگ ہمیں بھی لیکر دیجئے ۔۔ مگر شاید وہ ہمارے ارادے بھانپ گئی تھیں سو ایک ہی ڈانٹ کے بعد کونے میں بٹھا دیا ۔۔ کہ ناک تو چھدوائی نہیں لونگ کہاں ڈالنی ہے ۔۔۔ ان بھائی کی پوسٹ دیکھ کر یاد آ یا کہ ہمیں بھی کچھ ستارے خریدنے ہیں ۔ پوچھا کیا بھاؤ بک رہے ہیں ۔۔ دیکھو بھائی زیادہ مہنگے نا ہوں ۔۔ اصلی آ سمان سے اصلی ستارے لانا ۔۔۔
چائینہ کا مال نہیں چاہیئے ۔۔۔ اور تول پورا ہونا چاہیئے ۔۔۔ پوری تسلی کے بعد آ رڈر کیا ہے ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔ ایک تولہ ۔۔۔ تول دیجئے ۔۔ لاکٹ سیٹ اور ایک عدد لونگ بن جائیں گے نا ؟
ز ۔ م













