وزیر اعظم عمران خان نےمنی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے نئے قانون کامسودہ ایک ہفتے میں تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
وزیراعظم آفس سےجاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کااجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کےلیے نیا قانون کا مسودہ ایک ہفتے میں تیار کرنے، حوالہ، ہنڈی اور معیشت کو نقصان پہنچانےوالے غیر قانونی ہتھکنڈے روکنے کاقانون فوری بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں قانونی ذرائع سے زرمبادلہ لانے کےلیے مراعاتی پیکیج کی منظوری دی گئی جبکہ اسٹیٹ بینک کو جعلی اکاؤنٹس کھلوانے اور چلانے میں مدد دینے والوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک بطور ریگولیٹر بینک کارروائی کا آغاز کرے گا۔
اجلاس میں پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ پر عمل درآمد ریگولیٹ اور شفاف بنانے کی سفارشات پیش کی گئیں۔ وزیراعظم نے نیشنل ٹاسک فورس کو ماہانہ پرفارمنس رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت بھی دی۔
منی لانڈرنگ روکنے کےلیےنئے اسلام باد ایئرپورٹ کو جدید آلات سے لیس کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا اور وزیراعظم نے لیگل چینلز سے ترسیلات زر کےلیے مراعات بڑھانے کے پیکیج کی منظوری دے دی، ایم ویلٹ کے ذریعے ملنے والے ہر امریکی ڈالر پر 2 روپے ایئر ٹائم بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بینکوں/ایکسچینج کمپنیوں کو ترسیلات زر 15فیصد سےزیادہ ہونے پر فی ڈالر ایک روپیہ دیا جائے گا،فی ڈالر ایک روپیہ مارکیٹنگ اخراجات اور پروموشنل سرگرمیوں کے طور پر ادا کیا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک کے ذریعے ترسیلات زر بھیجنے والوں کےلیے آگاہی مہم شروع کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دی گئی۔












