سپریم کورٹ نے ایف بی آر سے عطاء الحق قاسمی کا پانچ سال کا ٹیکس ریکارڈ طلب کرلیا۔ عدالت نے بطور ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کی بھی تمام دستاویزات طلب کرلی ہیں۔
عطاء الحق قاسمی کی بطور ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار سے استفسار کیا کہ بتائیں یہ تقرری کس کی ہدایت پر کی گئی؟ اگر تقرری غلط ہوئی تو عدالت اسے غیر قانونی قرار دے دی گی۔رانا وقار نے کہا کہ یہ تقرری وزارت اطلاعات نے کی۔
عدالت کے طلب کرنے پر وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے عطاء الحق قاسمی کی تعیناتی کا حکم نہیں دیا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مجھے تجویز کنندہ کا نام بتائیں؟ رانا وقار نے بتایا کہ ڈی جی آئی پی ونگ ناصر جمال نے سمری موو کی تھی۔ جس پر ناصر جمال نے کہا کہ وزیر اعظم نے سمری منظور کی تھی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اب وہ بندہ چاہیے جس کو اس عہدے کیلئے عطاء الحق قاسمی کے نام کا خیال آیا۔ناصرج مال کے بیان کے دوران وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کے بولنے پر عدالت نے ان کی سرزنش کردی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ پیچھے چلے جائیں۔ آپ نے وزیراعظم ہاؤس کا اقتدار دیکھاہے۔ جہاں آپ کھڑے ہیں یہ عدالت ہے۔
فواد حسین فواد نے کہا کہ ایک سوال کا جواب دینے کیلئے آگے آیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا پاس کھڑے ہو کر لوگوں کو دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے؟دوران سماعت سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے اعتراف کیا کہ عطاء الحق قاسمی کا نام انہوں نے تجویز کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چاہتے تھے کہ پی ٹی وی ملکی ثقافت کا فروغ دے۔
چیف جسٹس نے ادائیگیوں کی تحقیقات کیلئے ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب کو طلب کرلیا، جبکہ عدالت نے عطاء الحق قاسمی کے پانچ سال کا ٹیکس ریکارڈ اور تقرری کا تمام ریکارڈ بھی بھی طلب کر لیا ہے۔
عدالت کیس کی مزید سماعت 21 فروری کو کرے گی

SHARE

LEAVE A REPLY