وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مستقبل میں سول ملٹری تعلقات، عدلیہ، محتسب اور دیگر ریاستی اداروں کے کردار پر بات چیت کے لیے قومی مباحثہ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

یہ بات وزیراعظم نے وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں حکومت کی کارکردگی کا 5 سالہ جائزہ پیش کرتے ہوئے کہی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس بات سے قطع نظر کے اگلی حکومت کون بنائے گا، اہم اداروں جیسا کہ عدلیہ، قومی احتساب بیور اور میڈیا کے کردار اور سول ملٹری تعلقات کا مسئلہ درپیش رہے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عدلیہ، حکومت کے کاموں میں مداخلت کرتی رہے اور نیب حکومتی معاملات کو مفلوج کر دے تو کوئی حکومت بھی کارکردگی نہی دکھا سکتی، یہی وجہ ہے کہ نئی حکومت بننے کے پیش نظر عدلیہ اور نیب کے کردار پر قومی مباحثے کا آغاز کیا جائے۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر عدالت کے فیصلے کے اثرات سے اربوں روپے کا نقصان ہوجاتا ہے تو ذمہ دار کون ہوگا؟ اور اگر نیب سرکاری اداروں کو مفلوج کر دے کہ وہ کوئی فیصلہ نہ لے سکیں تو کون جوابدہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے اختیارات کے ساتھ ایک قومی مباحثہ سول اور ملٹری تعلقات پر بھی ہونا چاہیے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک اس طرح نہیں چلتے نہ حـکومتیں ان حالات میں کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔

صحافیوں کی جانب سے جب پوچھا گیا کہ کیا پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنی انتخابی مہم نواز شریف کے نعرے ’ووٹ کو عزت دو‘ کے تحت چلائے گی، یا اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر عوام کی عدالت میں جائے گی، تو جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت کو 5 سال پہلے لوگوں نے ووٹ دے کر منتخب کیا اور ہم نے اپنی کارکردگی سے اس ووٹ کا احترام کیا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ سیاسی عدم استحکام ملک پر سنگین اثرات مرتب کررہے ہیں جبکہ حکومتی کارکردگی کو 2014 کے دھرنے، پاناما پیپر کیس کے فیصلے اور سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے نواز شریف کو عہدے سے برطرف کرنے کے فیصلے نے خاصہ نقصان پہنچایا ہے، ورنہ یہ کارکردگی مزید بہتر آتی اور مالی خسارہ بھی اس کے مقابلے میں کم ہوتا۔

SHARE

LEAVE A REPLY