ہماری سوچ ہمارے عمل سے زیادہ خطرناک ہے ! ڈاکٹر نگہت نسیم

0
459

میں نے آپ سے پوچھا تھا کہ “ کوئی اپنی ایک ایسی عادت جسے آپ چھوڑنا چاہتے ہو وہ لکھئے “ ۔ کچھ تو جنیوئن پرابلم تھے جیسے غصہ آنا ، وقت ضائع کرنا ، زیادہ اور لگاتار سوچنا، بہت زیادہ تنقید کرنا اور کچھ جواب ایسے تھے جس میں اپنی خوبیوں کو بتایا گیا جیسے ہر ایک پر یقین کر لینا ، معاف کردیا، دوسروں کی بھلائی چاہنا ۔۔۔ لیکن یہ اچھی عادات بری اس لیئے بنیں کہ اپنے دائرے میں رہ کر نہیں کیں ۔ ہم جب بھی اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو یہی مشکلات در آتی ہیں ۔ جیسے میرا ایک مریض ہے جسے بلیوں سے عشق ہے اور وہ اپنے تمام تر پیسے بلیوں کے کھانوں پر خرچ کر دیتا تھا اور نتیجتا خود بھوکا رہنے لگا اور اتنا رہا کہ بیمار ہو گیا۔ اسے بہتر ہونےمیں تھوڑا وقت لگا ۔ اب وہ ایک حصہ جانوروں کے کھانے کے لئے رکھتا ہے اور باقی اپنی کھانے پینے اور دیگر ضروریات زندگی پر خرچ کرتا ہے ۔ اگر آپ کسی کی مدد کرتے ہیں بہت اچھی بات ہے لیکن خود کو اور اپنے گھر والوں کو تکلیف میں رکھ کر مدد کرتے ہیں تو نہ آپ پیسے دیتے ہوئے خوش ہونگے اور نہ ہی دیر تک کر پایئں گے ۔۔ حدیث پاک میں ہے کہ “ اللہ پاک کو وہ عمل پسند ہے جو تھوڑا ہو پر مسلسل ہو “ ۔ اس حدیث پاک کی روشنی میں خود کو پرکھا جا سکتا ہے۔

اب آتے پہلے گروپ کی طرف جن کے مسائل گھمبیر ہیں ۔ وقت ضائع کرنا کوئی معمولی بات نہیں ۔ ۔۔لگاتار سوچنے تنقید کرنے اور غصہ کرنے سے جسمانی، جذباتی اور روحانی صحت خراب ہوتی ہے ۔
دوستو ایک بات یہاں سمجھنی ہے ۔۔ آپ کوئی بات بھی جب چھ بار سے زائد سوچتے ہیں وہ عملی روپ دھارنے لگتی ہے ۔ ہماری سوچ ہمارے عمل سے زیادہ خطرناک ہے ۔ حیرانی ہوئی آپ سب کو ۔۔ جی آپ کی سوچیں برقی چارج رکھتی ہے “ منفی اور مثبت“ اور یہ برقی شعایئں ہم سب کے ارد گرد ہیں ۔۔ہم سب کے پاس سے ہو کر آ رہی ہیں جا رہی ہیں ۔ یہ سوچیں ہزاروں میل دور بیٹھے انسان تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ مثال کے طور پر میں آپ کو یاد کر رہی ہوں اورمسلسل کر رہی ہوں تو میری سوچ کی انرجی آپ تک پہنچے گی اور آپ کو ایسے لگے گا جیسے میں یاد آنے لگی ہوں ۔ کبھی تو ہم صرف یاد کر رکے رہ جاتے ہیں اور کبھی فون اٹھا کر بات کر لیتے ہیں ۔ یعنی پہلی بار انرجی آپ تک پہنچی لیکن آپ کی سوچ کی انرجی سے میچ نہیں کی لیکن دسری بار فریکوئنسی مل گئی اور آپ نے فون اٹھاتے ہی کہا “ تمہاری یاد آ رہی تھی کئی دن سے سوچا بات کر لوں “ ۔۔۔۔تو دوستو یہ میری ہی سوچ کی انرجی اور طاقت تھی جس نے آپ کو مجبور کیا کہ بات کروں ۔

سوچیئے اسی طرح سے لگاتار سوچنے سے کیا کیا ہو سکتا ہے ۔ سوچ ” عمل ” میں ڈھلنے لگتی ہے ۔ ۔۔وقت ضائع کرتی ہے ۔۔غصہ دلاتی ہے ۔۔ بھلا غصہ کب آتا ہے اور تنقید کب کی جاتی ہے جب کوئی بات یا کام ہماری مرضی کا نہیں ہوتا ۔

سوچئے صبح دیر سے اٹھے ۔۔ اسکول کالج ، کام پر دیر ہونے لگی ۔۔ ایسے میں ناشتہ نہیں کیا یا زہر مار کیا ، کسی نے جلدی اٹھ کر صبح ہی صبح اخبار پڑھا ، ٹی وی چلایا ۔۔۔ سوچیئے روحانی طور پر آپ نے کیا کھایا ۔۔ کھانا صرف جسم کے لئے ہی تو ضروری نہیں ہے ۔۔جذباتی اور روحانی طور پر بھی کھانا بہت بہت ضروری ہے ۔ جس طرح جسم کمزورہوتا ہے اور بیماریوں کی زد میں آجاتا ہے اسی طرح روحانی جسم بھی بیمار پڑجاتا ہے اور دوا دینی پڑتی ہے ۔

آپ سب جانتے ہیں ہمارے جسم کو سکھ چین چایئے ۔ اورجسم کے سکھ چین کا تعلق روح سے ہے ۔ اورروحانی سکون جسم کے سکون سے وابستہ ہے ۔ سوچیئے اگر آپ جسمانی بیمار ہیں کیا اتنی طاقت ہو گی کہ کسی کو عیادت کو چلے جایئں ، مہمان نوازی کر لیں ، خوش اخلاقی سے پیش آیئں ۔ نہیں ہوگا نہ ، سو اس کا کیا مطلب ہوا کہ جسم اور روح کا سکون ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے ۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ایئر کنڈیشن گھروں میں بیٹھ کر لوگوں پر ظلم کریں ، نفرت کریں اور خوفناک پلاننگ کریں اور سکھ چین سے بھی رہیں ۔ مکن ہی نہیں ہے ۔۔ اسی طرح سے غربت میں بھی سکھ چین سے رہنا ممکن نہیں رہتا کہ ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے کوئی ہاتھ پھیلا رہا ہے تو کوئی ایسا نازیبا کام می ملوث ہے جس سے روح میں بےچینی در آتی ہے ۔
جیسا کہ میں نے آپ سے کہا سوچ سب سے خطرناک بھی اور بہترین بھی ہے کہ چھ سے زائد بار سوچیئے تو عمل ہونے لگتی ہے ۔اور ایک محتاط اندزے کے مطابق ایک دن میں اچھی بری “ چھ ہزار سوچیں “ انسان کو آتی اور جاتی ہیں یعنی ہم چھ ہزار منفی اور مثبت شعاؤں میں گھرے رہتے ہیں ۔اور انسان کے ایک عمل کا فائدہ اور نقصان تقریبا “ انسٹھ “ لوگوں تک پہنچتا ہے ۔ اور انسان کا غصہ “ دس سے بارہ “ منٹ میں زائل ہوجاتا ہے ۔

اب سوچیئے آپ نے کیسے بدلنا ہے ؟

میں نے جب یہ بدلاؤ کا سفر شروع کیا تو یوں کیا ۔۔۔

صبح ساڑھے چار بجے اٹھنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیئے ضروری ہے کہ دو ہی وقت ایسے ہیں جب کائینات میں سب سے زیادہ مثبت انرجی ہوتی ہے ۔ آپ جہاں کہیں بھی رہتے ہو اس کے وقت کے مطابق صبح چار سے پانچ بجے تک اور شام کو ساڑھے چھ بجے سے سات بجے تک۔ اگر سمجھ نہیں آ رہی تو اپنے ملک کے پرندوں کے ساتھ چلیئے جب وہ اٹھ جایئں تو آپ بھی اٹھ جایئے اور جب وہ اپنے گھروں میں جا رہیں ہوں تو آپ بھی آپ بھی سوچوں اور کاموں کی دوکان سمیٹ لیں اور جلد سو جایئں اور سونے سے تیس منٹ پہلے تمام ریڈیو ٹی وی اور موبائل بند کر دینے ہیں اور اللہ پاک کی شکرگزاری اور گھر والوں کی شکرگزاری کرتے ہوئے سوجانا ہے ۔

اٹھنے کے بعد آدھا گھنٹہ قطعا موبائل نہیں دیکھنا اور نہ ہی اخبار پڑھنا ہے اور نہ ہی ریڈیو سننا ہے ۔ اٹھنے کے بعد صرف پاک رب کی شکرگزاری کرنی ہے ۔ اس نے نیا دن دیا ہے ، نئی امید دی ہے ، ہاتھ پیروں کا شکریہ کہ ابھی چل رہے ہیں ۔۔ کائینات کا شکریہ جس نے اپنے دروازے ہم پر بند نہیں کیئے ۔ چاہے زندگی میں کچھ بھی ہو رہا ہو صرف اور صرف مثبت بات سوچنی ہے اور شکرگزاری کرنی ہے ۔
پھر آدھے گھنٹے کے ” صرف اپنے ” لئے وقت رکھئے ۔۔۔۔۔۔۔ جس میں ہلکی پھلکی ورزش کیجئے ۔۔ واک کیجئے ۔۔سبزازار دیکھئے ۔۔ یا کبھی میڈیٹیشن میں بیٹھ جایئے یعنی اپنے ساتھ وقت گزاریئے اور روازانہ ایک مقصد بنا کر اٹھئے ۔۔

جیسے سات دنوں کے مقصد یوں بنائے جا سکتے ہیں ۔

پہلا دن
آج کوشش کرنی ہے مجھے کسی پر غصہ نہیں کرنا ۔۔تنقید نہیں کرنی
دوسرا دن
آج میں سارا دن کوشش کرونگی کہ زیادہ سے زیادہ دوسروں کی سنوں یعنی کم بولنا ہے۔
تیسرا دن
آج میں کوشش کر کے زیاد سے زیادہ علم حاصل کرنے کی کوشش کرونگی یعنی اپنی پسند کی کتابیں پڑھنا
چوتھا دن
آج کوشش کر کے اپنی سوچوں پر دھیان رکھنا ہے کہ زیادہ نہ ہوں اور نہ ہی منفی ہوں
پانچواں دن
آج میں کوشش کر کے سوشل میڈیا پر کم سے کم جاؤں گی اور گئی تو کوئی تبصرہ لکھتے وقت یا اسٹیٹس ڈالتے وقت دھیان رکھوں گی کہ جہاں منفی بات بتا رہی ہوں وہاں مثبت بھی بتاؤں ۔
چھٹا دن
آج کوشش کر کے اپنے ارد گرد چھوٹے بڑوں سے پیار سے رہونگی یعنی زبان اور اخلاق کا خیال رکھونگی ۔۔ان کی صحت سلامتی کی دعایئں کرونگی یعنی انہیں مثبت شعایئں تحتفا بھیجونگی۔
ساتواں دن
آج کوشش کر کے اپنی وہ عادت جو میری جسمانی اورروحانی صحت کو تباہ کر رہی ہے اسے بہت کم کرنا ہے یعنی سگریٹ ، پان ، میٹھا کھانے میں کمی کرنے کی شعوری کوشش۔
اس کے بعد آپ گھر کے کام کیجئے یا اپنی نوکری پر جایئے ۔۔۔ دن کا ہر پل مثبت اور سوچ بامقصد ہوگی جو روحانی اور جسمانی صحت کا باعث ہوگی ۔ یاد رکھنے کی بات اتنی سی ہے کہ ہم صرف ” خود” کو بدل سکتے ہیں دنیا کو نہیں۔ اس لئے یہ سوچنا چھوڑ دیجئے کہ لوگ کیا کرتے ہیں۔ بات اہم یہ ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔

مندرجہ بالا ترتیب میں آپ اپنی اپنی کمی اور جن جن عادات کو بدلنا چاہتے ہیں وہ رکھ سکتے ہیں ۔ اور ہر دن ایک ہی مقصد بھی رکھ سکتے ہیں ۔ یہ سب آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنی زندگی کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں ۔

بات اتنی سی ہے کہ آپ جو سوچیں گے وہی عمل میں آئے گا اور انسٹھ لوگوں تک پہنچے گا پھر ان انسٹھ لوگوں سے انسٹھ بار اور دوسروں تک ۔۔
سوچیئے “سوچ “ میں کتنی طاقت ہے کہ معاشرے بنا اور بگاڑ سکتی ہے ۔ اور اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ معاشرے کے بننے اور سنورنے میں ہم سب کا ہاتھ ہے ۔
سو اب یہ ہم سب کی فردا فردا زمہ داری ہے کہ اپنے معاشرے اور سماج کو سکھ چین اور سلامتی کا معاشرہ بنایئں کہ جہاں آکر لوگ امن اور تحفظ محسوس کریں اس کے لئے اپنی سوچوں پر اختیار حاصل کیجئے اور انہیں مثبت بنایئے ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY