جے آئی ٹی نے کام میں پیش آنے والی رکاوٹوں، مشکلات اور دباؤ سے متعلق پاناما عمل درآمد کیس میں سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ کو آگاہ کر دیا، عدالت نے اٹارنی جنرل سے جواب طلب کر لیا۔
جے آئی ٹی نے پاناما عمل درآمد بنچ کو آگاہ کر دیا کہ تحقیقات میں رکاوٹیں ہیں، جےآئی ٹی کی جمع کرائی گئی رپورٹ میں درج ہےکہ 60 دن میں کام مکمل نہیں کر سکتے، ادارے ریکارڈ کی فراہمی میں تاخیر کر رہے ہیں۔
جے آئی ٹی نے اداروں پر ریکارڈ ٹمپرنگ کا الزام لگا دیا، حسین نواز کی تصویر لیک معاملے پر بھی جے آئی ٹی نے جواب عدالت میں پیش کردیا کہ کس نے تصویر لیک کی اور کس کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔
بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے معاملے پر حسین نواز کے وکیل اور اٹارنی جنرل آفس سے جواب طلب کرلیا۔
بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ جے آئی ٹی نے تفتیش میں رکاوٹوں کی شکایت کی ہے۔
جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ جے آئی ٹی کی درخواست کے دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کچھ اداروں پر ریکارڈ تبدیل کرنے کا سنگین الزام ہے، اگر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو ٹائم فریم میں کام مکمل نہیں ہو گا،جے آئی ٹی کو محدود وقت میں کام مکمل کرنے کا کہا گیا، اداروں کے سربراہ تحقیقات کے بعد عدالت کو خط کیوں لکھتے ہیں؟ اور وہ میڈیا میں کیسے آ جاتےہیں، عدالت نے تحقیقات میں رکاوٹوں سے متعلق درخواست پر اٹارنی جنرل آفس سے جواب طلب کر لیا۔
حسین نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے موقع پر تصویر لیک ہونے پر جے آٹی ٹی نے سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کی ، جس کا ججز نےجائزہ لیا۔
جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی نے بہت سے الزامات کی تردید کی ہے، کس نے تصویر لیک کی اور کس کے خلاف کیا کارروائی ہوئی، رپورٹ میں سب درج ہے۔
انہوں نے حسین نواز کے وکیل سے کہا کہ خواجہ حارث صاحب! آپ کو جے آئی ٹی کا جواب دیکھنا چاہیے، اگر اٹارنی جنرل آفس کو اعتراض نہ ہو تو خواجہ حارث کو رپورٹ دی جا سکتی ہے، اعتراض نہ ہو تو رپورٹ پبلک بھی کی جا سکتی ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ رپورٹ خواجہ حارث کو دینے پر اعتراض نہیں، عدالت نے اٹارنی جنرل اور خواجہ حارث سے جے آئی ٹی رپورٹ پر جواب طلب کر لیا۔
خواجہ حارث نے کہا کہ ایک معاملہ ویڈیو ریکارڈنگ کا بھی ہے۔
جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ سیکشن 161ویڈیو بنانے کی ممانعت نہیں کرتا۔
حسین نواز کے وکیل نے استدعا کی کہ معاملے پر سماعت کل کرلیں۔
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم آپ کی پریشانی کو سمجھتے ہیں ،سماعت کل نہیں پرسوں ہوگی

SHARE

LEAVE A REPLY