امریکہ کے سابق صدر جارج ایچ ڈبلیو بش انتقال کرگئے

0
831

امریکہ کے 41 ویں صدر جارج ہربرٹ واکر بش انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر 94 برس تھی۔

سابق صدر کی وفات کا اعلان ان کے دیرینہ ترجمان جِم مک گرتھ نے جمعے کی شب جاری ایک مختصر بیان میں کیا۔بیان کے مطابق آخری رسومات کی تاریخ اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

جارج ایچ ڈبلیو بش 1989ء سے 1993ء تک امریکہ کے صدر رہے تھے لیکن ان کا سیاسی اور پبلک سروس کیریئر 40 برسوں پر محیط تھا۔

وہ امریکہ کے 43 ویں صدر جارج ڈبلیو بش کے والد تھے جو دو مدت کے لیے 2000ء سے 2009ء تک صدر رہے تھے۔

لیکن جارج بش سینئر صرف چار سال ہی صدر رہے تھے۔ وہ 1988ء کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار مائیکل ڈکاکس کو شکست دے کر صدر بنے تھے لیکن 1992ء میں خراب معاشی حالات اور بے روزگاری کی شرح میں اضافے کے باعث دوسری مدتِ صدارت کا انتخاب اپنے ڈیموکریٹ حریف بِل کلنٹن سے ہار گئے تھے۔

صدر بننے سے قبل وہ 1981ء سے 1989ء تک آٹھ سال صدر رونلڈ ریگن کے ساتھ نائب صدر بھی رہے تھے۔

صدر کے عہدے سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کو اپنی رہائش کے لیے منتخب کیا تھا جہاں وہ تواتر سے عوامی تقریبات میں شریک ہوتے تھے۔

صدر بش سینئر کی اہلیہ باربرا بش کا انتقال سات ماہ قبل ہوا تھا جس کے بعد انہیں بھی علالت کے باعث اسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا۔ دونوں کی رفاقت 73 سال پر محیط تھی۔

جارج بش سینئر کو سب سے طویل عمر پانے والے سابق امریکی صدر کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ان سے قبل امریکہ کا کوئی صدر 94 سال کی عمر تک نہیں پہنچ پایا تھا۔

جارج بش سینئر کے دوسرے بیٹے جیب بش فلوریڈا کے گورنر رہ چکے ہیں جنہوں نے 2016ء کے صدارتی انتخاب کے لیے ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کی بھی کوشش کی تھی جس میں وہ ناکام رہے تھے۔

جارج ایچ ڈبلیو بش نے چار دہائی سے جاری سرد جنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سویت یونین کے ٹوٹنے پر ایٹمی خطرات کو کم کرنے کے علاوہ 1991 میں کویت سے عراقی فوجوں کو نکال باہر کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔

مسٹر بش کانگریس کے رکن، اقوام متحدہ اور چین میں سفیر رہنے کے علاوہ خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ کے طور پرفرائض بھی انجام دے چکے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY