بسنت: تہوار، ثقافت اور بدلتا ہوا رویہ، زاہدہ خوشی

0
1056

بسنت برِصغیر کا ایک قدیم اور رنگوں سے بھرا تہوار ہے جو صدیوں سے موسمِ بہار کی آمد کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ زرد رنگ، پتنگیں، ڈھول کی تھاپ اور خوشی سے لبریز فضا بسنت کی پہچان رہی ہے۔ یہ تہوار صرف ایک کھیل یا تفریح نہیں بلکہ ہماری تہذیبی تاریخ، لوک روایت اور سماجی میل جول کی علامت بھی رہا ہے۔

قدیم زمانے میں بسنت کا مقصد قدرت کی بیداری، فصلوں کی تیاری اور انسان کے فطرت سے تعلق کو اجاگر کرنا تھا۔ کسان اس موسم کو خوش حالی کی نوید سمجھتے تھے جبکہ شہروں میں یہ دن میل ملاقات، موسیقی اور مسرت کا ذریعہ بنتا تھا۔ لاہور، قصور اور گرد و نواح کے علاقوں میں بسنت خاص طور پر ثقافتی شناخت کا حصہ سمجھی جاتی رہی ہے۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بسنت کی صورت بدلتی چلی گئی۔ جس تہوار کا مقصد خوشی بانٹنا تھا، وہ آہستہ آہستہ مقابلہ بازی، نمود و نمائش اور خطرناک رویّوں کی نذر ہو گیا۔ کیمیائی ڈور، دھاتی تار اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے جان لیوا خطرات نے اس تہوار کو متنازع بنا دیا۔ ہر سال قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور درجنوں زخمی ہونا ایک تلخ حقیقت بن گیا، جس کے نتیجے میں ریاست کو بسنت پر پابندی عائد کرنا پڑی۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا کسی تہوار کی چند غلط شکلوں کی بنیاد پر پوری روایت کو ختم کر دینا درست ہے؟ یا ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ مسئلہ تہوار میں نہیں بلکہ ہمارے رویّوں میں ہے؟ دنیا کے کئی ممالک میں تہوار سخت قوانین اور نظم و ضبط کے تحت منائے جاتے ہیں، جہاں تفریح اور انسانی جانوں کا تحفظ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

بسنت دراصل ہمیں اعتدال، خوشی اور اجتماعی ہم آہنگی کا سبق دیتی ہے۔ اگر اس تہوار کو محفوظ انداز میں منایا جائے، ماحول دوست مواد استعمال ہو، اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے تو یہ دوبارہ ہماری ثقافت کا خوبصورت حصہ بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بسنت کو صرف پتنگ بازی تک محدود رکھنے کے بجائے ادبی محفلوں، موسیقی، ثقافتی میلوں اور بچوں کے لیے محفوظ سرگرمیوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔

آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تہواروں کو جذبات کے بجائے شعور کے ساتھ منائیں۔ بسنت ہو یا کوئی اور ثقافتی دن، اس کا اصل حسن تبھی برقرار رہ سکتا ہے جب خوشی کسی کی جان کے بدلے نہ ہو۔ تہذیب وہی زندہ رہتی ہے جو وقت کے ساتھ خود کو بہتر بنانا جانتی ہو۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بسنت نہ صرف ایک موسم کا نام ہے بلکہ زندگی میں رنگ، اُمید اور توازن کی علامت بھی ہے۔ اگر ہم ذمہ داری، قانون اور انسانی ہمدردی کو پیشِ نظر رکھیں تو بسنت ایک بار پھر ہمارے معاشرے میں خوشیوں کا پیغام بن سکتی ہے، نہ کہ کسی سانحے کی خبر۔

SHARE

LEAVE A REPLY