رشی سونک پہلے ایشیائی برطانوی وزیر اعظم۔ کون ہیں؟

0
1300

بھارتی نژاد برطانوی رہنما رشی سونک بھارتی آئی ٹی کمپنی انفوسس کے شریک بانی نارائن مورتی کے داماد ہیں۔ رشی کو بھارت نواز لیڈر کے طور پر جانا جاتا ہے۔42 سالہ رشی سونک کو بورس جانسن نے فروری 2020 میں اپنی حکومت میں جگہ دی تھی اور انہیں مالیاتی محکمے کی ذمہ داری ملی تھی۔

بیالیس سالہ رشی سونک برطانیہ کے شہر نارتھمپٹن میں پیدا ہوئے اور اُنہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے فلسفہ اور معاشیات میں ڈگری حاصل کی۔

اُن کے والدین بھارتی نژاد ہیں جنہوں نے 1960ء کی دہائی میں برطانیہ ہجرت کی، اُن کی والدہ ایک فارماسسٹ اور والد نیشنل ہیلتھ سروس  کے جنرل پریکٹیشنر  تھے۔

رشی سونک کی شادی بھارتی آئی ٹی کمپنی انفوسس کے شریک بانی نارائن مورتی کی بیٹی سے ہوئی، اس جوڑے کی 2 بیٹیاں کرشنا اور انوشکا ہیں۔

رشی سونک پہلی بار 2015ء میں ایم پی بنے تھے، وہ رچمنڈ، یارکشائر سے منتخب ہوئے تھے۔

سونک نے کنزرویٹو پارٹی کی صفوں میں تیزی سے اضافہ کیا اور ’بریگزٹ‘ کے مطالبات کی حمایت کی، وہ بورس جانسن کی  چھوڑو‘ مہم کے دوران ان کے حامیوں میں سے ایک تھے۔

رشی سونک نے فروری 2020ء میں اس وقت تاریخ رقم کی جب انہیں برطانوی کابینہ میں وزیرِ خزانہ تعینات کیا گیا۔

اُنہوں نے وبائی امراض کے دوران کاروبار اور ملازمین کی مدد کے لیے اپنے معاشی پیکیج کے لیے مقبولیت حاصل کی۔

اس پیکیج میں ملازمتوں کو برقرار رکھنے کا پروگرام شامل تھا، جس نے مبینہ طور پر برطانیہ میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری کو روکا تھا۔

سونک اپنی دولت مند بیوی کے غیر مقیم ٹیکس کی حیثیت پر تنقید کا سامنا بھی کر چکے ہیں۔

دی سنڈے ٹائمز کی جاری کردہ امیروں کی فہرست کے مطابق رشی سونک اور ان کی اہلیہ اکشتا مورتی کی کُل دولت کی مالیت تقریباً 730 ملین پاونڈ (تقریباً 1 کھرب 80 ارب روپے سے زیادہ) ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیشن ڈیزائنر اکشتا مورتی اپنے شوہر رشی سونک سے زیادہ امیر ہیں کیونکہ وہ بھارت کے امیرترین شخص این آر نارایانا مورتی کی بیٹی ہیں۔

اکشتا مورتی کون ہیں اور ان دونوں کی ملاقات کیسے ہوئی؟
اکشتا مورتی 1980 میں بھارت میں این آر نارایانا مورتی اور سودھا مورتی کے یہاں پیدا ہوئیں۔

ان کے والدین نے انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس کے میدان میں اپنا کیرئیر بنانے کی خاطر انہیں اور ان کے بھائی روحان مورتی کو ان کے دادا دادی کے پاس چھوڑ کر ’انفورس‘ نامی آئی ٹی کمپنی کی بنیاد رکھنے میں مصروف ہوگئے۔

انہیں اپنے بچوں اور اہل خانہ سے ملاقات کرنے کے لیے ہر ویک اینڈ بذریعہ جہاز سفر طے کر کے ایک شہر سے دوسرے شہر جانا پڑتا اور پھر گاڑی کا طویل سفر طے کرنا ہوتا تھا جس کے لیے ایک گاڑی کرائے پر حاصل کرتے تھے جو اُس وقت انہیں کافی مہنگی پڑتی تھی۔

جبکہ ان کی والدہ سودھا مورتی اُس وقت بھارت کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی کے لیے کام کرنے والی پہلی خاتون انجینیئر تھیں، اب ایک مخیر شخصیت، انسان دوست اور صحت عامہ کے لیے کام کرتی ہیں۔

اکشتا جب بڑی ہو رہی تھیں تو وہ بالآخر ممبئی میں اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگیں۔ اس مرحلے پر ان کے والدین نے انہیں مطالعے، پڑھنے اور بحث و مباحثے کی جانب راغب کرنے کی پوری کوشش کی اور اس مقصد کے لیے گھر سے ٹی وی بھی ہٹا دیا گیا تھا۔

یہاں تک کہ جب انفوسس کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا اور ان کا خاندان امیر تر ہوتا گیا تو بھی اکشتا نے عام طور پر بھارتی اشرافیہ کی طرح نجی گاڑی کے بجائے ’باقاعدہ آٹورکشا‘ میں سکول جانا جاری رکھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جب اکشتا بڑی ہو رہی تھیں تو وہ بالآخر ممبئی میں اپنے والدین کے ساتھ رہنے لگیں۔

اس مرحلے پر ان کے والدین نے انہیں مطالعے، پڑھنے اور بحث و مباحثے کی جانب راغب کرنے کی پوری کوشش کی اور اس مقصد کے لیے گھر سے ٹی وی بھی ہٹا دیا گیا تھا۔

یہاں تک کہ جب انفوسس کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا اور ان کا خاندان امیر تر ہوتا گیا تو بھی اکشتا نے عام بھارتی اشرافیہ کی طرح نجی گاڑی کے بجائے ’باقاعدہ آٹورکشا‘ میں اسکول جانا جاری رکھا۔

اکشتا مورتی نے لاس اینجلس سے فیشن آف ڈیزائن اور مرچنڈائزنگ کی ڈگری حاصل کرنے سے قبل کیلیفورنیا کے نجی کالج سے معاشیات اور فرانسیسی زبان کی تعلیم حاصل کی پھر سٹینفورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے مکمل کیا۔

یہ وہی وقت تھا جب ان کی ملاقات برطانیہ کے شہر ساؤتھ ہیمپٹن میں پیدا ہونے والے رشی سونک سے ہوئی جو فل برائٹ سکالرشپ پر کیلیفورنیا پڑھنے آئے ہوئے تھے۔

چار سال بعد 2009 میں اس جوڑے نے بنگلور میں شادی کی۔ ان کی شادی کی شاندار تقریب دو روز تک جاری رہی، جس میں بھارتی کرکٹ لیجنڈ انیل کمبلے جیسی کئی معروف شخصیات نے شرکت کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY