ٹونی بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی سے نصابی کتب سے فلسطین کا نام ہٹانے کا مطالبہ کیا: سابق برطانوی سفیر

0
1156

ایک سابق برطانوی سفیر نے انکشاف کیا ہے کہ سابق برطانوی وزیر اعظم نے بورڈ آف پیس کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ نصابی کتب سے فلسطین کا نام ہٹا کر اس کی جگہ یہودی اصطلاح ’سامریہ‘ شامل کی جائے۔

مشرق وسطیٰ پر نظر رکھنے والی نیوز ویب سائٹ ‘مڈل ایسٹ آئی’ کے مطابق 1998 سے 2003 تک اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سفیر رہنے والے جیریمی گرین اسٹاک نے بتایا کہ ٹونی بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی اور کہا کہ اگر فلسطینی اتھارٹی بورڈ آف پیس کی نظر میں غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اہل قرار پانا چاہتی ہے تو اسے نصابی کتب سے ‘فلسطین’ کا نام مٹانا ہوگا۔

‘ڈیوڈ ہرسٹ پوڈ کاسٹ’ میں ایک تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے جیریمی گرین اسٹاک نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹونی بلیئر کو غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظام کی نگرانی کے اپنے نئے کردار میں مشکلات کا سامنا ہے۔

جیریمی گرین اسٹاک نے کہا کہ ’بورڈ آف پیس کا فلسطینی تعلیمی نصاب میں ایسی تبدیلی کا مطالبہ کرنا اس بات پر سوالیہ نشان لگاتا ہے کہ یہ بورڈ کن اصولوں پر کام کر رہا ہے‘۔

دوسری جانب ٹونی بلیئر کے ایک ترجمان نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق برطانوی وزیراعظم نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا اور یہ خبر ’مکمل طور پر جھوٹی اور من گھڑت ہے‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY