پنجاب میں بسنت منانے کے حوالے سےپنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں تحریری جواب جمع کرادیا ہے ۔
جواب میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ حکومت اس سال پتنگ بازی کی اجازت بالکل بھی نہیں دے رہی اور بسنت سے متعلق نئی قانون سازی پر غور کررہی ہے ۔
پنجاب حکومت نے عدالت کو بتایا کہ لوگوں کی زندگیاں محفوظ بنانے کے لیے قانون سازی پر غور کر رہے ہیں ، آگے جا کر فریقین کی رضا مندی سے اس تہوار کی بحالی پر غور کیا جاسکتا ہے ۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس شکیل الرحمان خان نےمقامی وکلاءکی بسنت منانے کے اعلان کےخلاف درخواستوں پر سماعت کی ۔
کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کےوکیل نےعدالت کوبتایاکہ کائٹ فلائنگ کو ریگولیٹ کرنے کا قانون موجود ہے ، بسنت کی اجازت ہونی چاہیے۔
عدالت نے کائٹ فلائنگ ایکٹ پر وکلاء سے معاونت طلب کر لی،اور ریمارکس دیئے کہ بسنت فیسٹیول کی حیثیت اور اس کے ممکنہ نقصانات پر عدالت کو تحفظات ہیں۔
درخواست گزار نے بتایاکہ بسنت کا صرف اعلان ہوا تو صوبے میں پتنگ بازی شروع ہو گئی، ڈور پھِرنے اور کرنٹ لگنے سےاب تک متعدد بچے اور بچیاں جاں بحق ہو چکے ہیں، عدالت نے عدالتی وقفے تک بسنت بنانے کی درخواستوں پر سماعت ملتوی کر دی













