پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ روز سے اب تک درمیانے درجے کے 6 زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، ماہرین کے مطابق ان زلزلوں کا تعلق حال ہی میں وینزویلا میں آنے والے زلزلے سے پیدا ہونے والی زیر زمین توانائی کی لہروں سے ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں زلزلےکے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلےکی شدت 5.9 اور زلزلےکی گہرائی 178 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلےکا مرکز ہندوکش ریجن افغانستان تھا، زلزلےکے جھٹکے شام 6 بج کر 35 منٹ پر محسوس کیے گئے۔
اس سے قبل آج صبح بلوچستان کے علاقےکوہلو میں ایک بار پھر زلزلےکے جھٹکے محسوس کیے گئے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج صبح ریکارڈ کےگئے زلزلے کی شدت 5.2 تھی، جب کہ اس کا مرکز بلوچستان کا علاقہ بارکھان تھا۔
اس کے علاوہ آج صبح ملتان اور اس کے نواحی علاقوں میں بھی زلزلےکے شدید جھٹکے محسوس کیےگئے، زلزلےکا دورانیہ چند سیکنڈ رہا۔
چیف میٹرولوجسٹ محکمہ موسمیات امیر حیدر لغاری کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ روز سے زلزلوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک مجموعی طور پر درمیانے درجےکے پانچ زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بلوچستان اور خیبر پختونخوا “یوریشین ٹیکٹونک پلیٹ” پر واقع ہیں اور یہ تمام حالیہ زلزلے اسی پلیٹ کی اوپری سطح پر آ رہے ہیں۔
ماہرین ارضیات کا کہنا ہےکہ یہ زلزلے دراصل عالمی سطح پر آنے والے زلزلوں کا اثر ہے۔ حال ہی میں وینزویلا میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد زمین کے اندر توانائی کی لہریں پیدا ہوئیں، جو اب اس سے منسلک دوسری ٹیکٹونک پلیٹوں پر منتقل ہو کر زلزلوں کا سبب بن رہی ہیں۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو سال 2000 سے 2011 کے دوران بھی ایسا ہی ایک بڑا تسلسل دیکھا گیا تھا، جب انڈونیشیا میں آنے والے بڑے زلزلےکی زیرِ زمین توانائی کے باعث ہی 2005 میں کشمیر کا تباہ کن زلزلہ آیا تھا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہےکہ جب تک زمین کے اندر پیدا ہونے والی توانائی کی یہ لہریں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں، یوریشین پلیٹ پر مزید معتدل زلزلے آنےکا امکان برقرار رہےگا۔
تاہم سائنسی طور پر زلزلے کے درست وقت اور شدت کی پیشگوئی کرنا ناممکن ہے۔
خیال رہے کہ وینزویلا میں بدھ کے روز دو شدید زلزلے ریکارڈ کیے گئے جن کی شدت 7.2 اور 7.5 تھی، زلزلوں کی وجہ سے انفرا اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 920 ہوگئی ہے جب کہ 3 ہزار 360 افراد زخمی ہوچکے ہیں اور سیکڑوں افرادکے ملبے تلے دبے ہونےکا خدشہ ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
وینزویلا میں دو بڑے زلزلوں کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک ایک درجن سے زائد زلزلے آچکے ہیں جبکہ زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 235 تک پہنچ چکی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق وینزویلا میں یکے بعد دو شدید زلزلے ریکارڈ کیے گئے جن کی شدت 7.2 اور 7.5 تھی، زلزلوں کی وجہ سے انفرا اسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں اب تک 235 افراد کی اموات کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 1500 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور سیکڑوں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
ادھر دارالحکومت کاراکس میں کئی عمارتیں گر گئیں، جس کے باعث متاثرین سڑکوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں، شدید زلزلے سے کاراکس ائیرپورٹ بھی متاثر ہوا جس کے سبب فلائٹ آپریشن بند ہوگیا، وینزویلا کی قائم مقام صدر نے زلزلے سے متاثرہ ساحلی علاقوں کا دورہ بھی کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وینزویلا میں 2 بڑے زلزلوں کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے اب تک ایک درجن سے زائد زلزلے آچکے ہیں جبکہ اگلے ہفتے کے دوران 5 شدت کے ایک اور زلزلے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب امریکا نے وینزویلا کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں تعینات کر دی ہیں، مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے زلزلہ متاثرین کے لیے ہنگامی طور پر ایک لاکھ یورو کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے













