وہ وجود جو مانند سحر ملے۔فائزہ عباس

0
867

وجود سحر وہ وجود جو سحر سی پاکیزگی، رنگ، روشنی، مہک رکھتا ہے جیسے انیوالا دن نیی اُمیدیں لاتا ہے ایسے ہی وجود سحر رکھنے والا شخص دوسرون کی زندگی کو امیدون سکون روشنی سے بھر دیتا ہے کہ جسکے سایے مین آکر کوئ بھی انسان بےامان نہین رہتا…

جسکے وجود کی دھنک اپنے ارد گرد کو زندگی کے رنگوں سے بھر دیا کرتی ہے….

جسکی زات بے ہمت نہین بلکہ ہمت کی دلیل شجاعت کی سبیل ا حساس کی وہ سرزمین ہوا کرتی ہے کہ جہاں پہ موجود ہر شخص اس وجود کی حرارت سے زندگی کی تپش لیتا ہے… جو زندگی بخش ہو جو حیات دیتا ہے…..

کیا آپ ہیں وہ وجود…
کیا آپ اپنے ارد گرد ایسا شخص دیکھ سکتے ہیں….

جو کڑیاں جوڑ پائے….

جو درد مند ہو مسیحائ کو خود میں اور دوسروں میں زندہ کر پائے….

میں متلاشی رہا کئ عرصہ
تلک کہ مل جائے مجھکو اس وجود کی جھلک- – –

وہ وجود جو مانند سحر ملے
کہ جس سے زندگی کو گوہر ملے

بہت دیکھا، ڈھونڈا، تلاش کیا
اور زندگی میں تلاش جاری رہی…

جب میں نے دیکھا تو ماں
کا وجود دیکھا جہاں سے محبت کی سحر پھوٹتی تھی – – –

بہنو بھائیوں سے محافظت پھوٹتی تھی – – – دوستوں میں ایک مددگار مشیر پایا- – – سب مین کچھ کچھ عکس پایا- – –
مگر ہر ایک کو کہیں نہ کہیں نا مکمل پایا- – –
مگر مکمل دیکھنے کے لیے ارد گرد دیکھا بہت سوں کو محروم دیکھا کچھ نے ان محرومیوں کو باعث محرومی بنایا اور کچھ نے نیی امیدوں نیی راہوں کا گوہر بنایا- – –
یہ محبتوں بھرے وجود کیوں سخت زخمی کرنیوالی چٹانوں میں بدل گئے آخر – – –

وہ وجود اس ہر جواہر و دولت سے کہیں بڑھکر قیمتی ہے کہ جسمیں رب بستا ہو – – –

ایکبار جناب عیسی علیہ السلام کچھ ساتھیوں کیساتھ ایک جگہ سے گزر رہے تھے کہ ایک جگہ سے گزرے تو وہاں پر بہت سے ہیرے جواہرات دکھائی دیے اور سب ان پر لپکنے لگے اور بڑے خوش ہونے لگے – – –

تو جناب عیسی علیہ السلام نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ کیا کر رہے ہو چھوڑ دو اس سب کو اور فرمایا کہ تم سب یہیں رک کر میرا انتظار کرو اسوقت تک کہ جب تک میں شہر سے لوٹ نہیں آوں کہ وہاںسے میں تمہارے لیے بیش قیمت ہیرا لیکر اونگا سب وہیں رکے اور انتظار کرنے لگے آپ شہر گئے اور ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بوڑھی عورت نے دروازہ کھولا اور کہا کہ ان کا بیٹا ابھی گھر پہ نہیں – – – –
تو آپ وہیں رک کر اس کا انتظار کرنے لگے – – –
اب شام ہوئی – – –

تو بوڑھی عورت کا بیٹا گھر لوٹ آیا اور جناب عیسی علیہ السلام سے ملا تو آپ علیہ السلام نے پوچھا اے نوجوان کچھ پریشان لگتے ہو تو تو کچھ ہچکچاہٹ کے بعد اس نے بتایا کہ اس نے بادشاہ کی لڑکی کی ایک جھلک دیکھی اور تب سے دل بے قابو ہے وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے جبکہ میری تو ایسی حیثیت نہیں کہ میں ایک مزدور انسان ہوں کیسے سوچ سکتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ اچھا بس اتنی سی بات آپ نے فرمایا جاو ایک تھال لیکر او اور اسے پتھروں سے بھر لو تو ازن رب سے آپ نے اس تھال کو ہیرے جواہرات سے بدل دیا – – –

اور فرمایا کے جاو یہ لیجاو اور رشتے کی بات کرو نوجوان لیکر اس لڑکی کے باپ کے پاس گیا تو اس نے کہا پہلے دو اور تھال ایسے اور لیکر او تب میں رشتے کے لیے ہاں کروں گا وہ نوجوان پھر پریشانی کے عالم میں جناب عیسی علیہ السلام کے پاس آیا اور ملاقات کا ماجرا سنایا تو آپ نے فرمایا پریشان نہ ہو دو اور تھال ویسے ہی بھر لاو تو آپ نے پھر رب کے ازن سے انکو جواھرات سے بدل دیا اب وہ پھر اس لڑکی کے باپ کے پاس گیا اور تھال پیش کیے اور رشتہ طے پا گیا؛ شادی ہو گئ اور بادشاہ نے سب نظام و انتظام اس نوجوان کے سپرد کیے وہ نوجوان بی بیحد خوش تھا کہ کیسے دنوں میں وہ مزدور سے بادشاہ بن گیا…
سوچنے لگا کہ ابھی تو دن آئے ہیں کہ زندگی کی خوشیوں کو سمیٹ سکوں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ جناب عیسی علیہ السلام نے اس نوجوان سے اجازت چاہی اور کہا کہ اب میں چلتا ہوں میرا دل یہاں کچھ اچھا محسوس نہیں کرتا تو وہ نوجوان بہت حیران ہوا اور پوچھنے لگا کہ اپکا دل پھر کس شے میں لزت محسوس کرتا ہے تو فرمایا…

قرب خدا میں، زکرالہی میں کہ کہ میرے وجود کو رب کے زکر سے لزت و سکون ملتاہے مجھے چلنا چاہییے یہ جگہ میرے لیے نہیں کہ میرا مکان اور ہے، میرا ھدف اور منزل کچھ اور ہے…تو نوجوان کہنے لگا کہ میں بھی اسی لزت اسی احساس کوپاناچاہتا ہوں تو جناب عیسی علیہ السلام نے فرمایا کیا تم یہ بادشاہی، یہ سکون آرام من پسند بیوی سب چھوڑ پاو گے تو نوجوان نے کہا کیوں نہیں میں آپکے ساتھچلوں گا
اور جناب عیسی علیہ السلام کیساتھ چلدیا جناب عیسی واپس ان ساتھیوں حواریوں کے پاس تشریف لائے جو اس شے کے منتظر تھے کہ جناب موسی بیش قیمت ہیرا لانے والے ہیں نوجوان کو دیکھا تو سوال کرنے لگے تو جناب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا

کہ اس نوجوان کے دل میں رب بستا ہے اور ایسا دل ایسا وجود ہیرے جواہرات سے کہیں زیادہ بیش قیمت ہے…

سو یہ وجود جو رب کی محبت میں خالص اور شفاف ہو وہ وجود سحر سی کیفیت رکھتا ہے، ایک منزہ، پاک و طاہر وجود جو بدل سکتا ہے تقدیریں اپنی زات کے پنہاں خزانوں سے مگر یہ کہ آج تک یہ بات انسان سمجھ ہی نہ پائے اور دنیاوی رتبوں، دولت اور خزان کی چمک نے انکے قلبوں پر ظلمت کے وہ نقش گاڑ دیے کہ دنیا میں تو سب پا لیا پر بصیرت، طہارت، لطف الہی سب گنوا دیا گویا سب پا کر بھی فقیر رہے اور وہ سب کھو کر بھی امیر رہے….

یہ عبد الہی کا
وہ وجود ہے جو اسکے عشق کی ڈوریوں سے مکمل اخلاص کیساتھ جڑا ہوا ہے…. جو کسی کے احسان کا منتظر نہیں بلکہ ا بھی سان ہمدردی، مددگار کے لیے مظطرب ہے جو کہ ہر وجود کا خاصہ نہیں… یہ سحر کے ا حساس کی طرح پرسکون، ٹھنڈک کا احساس لیے ایک ایسا وجود جو شفاف ہے بالکل شبنم کے ان حسین قطروں کی طرح کے جن کے آرپار دیکھا جاسکتا ہو- – –
وہ وجود کہ جس کی نگاہیں بلند ہوں اور جو عالی ظرف ہو، محبتوں سے سجے مہربان وجود جن کے وجود میں رب سے جڑے ہونے کا وہ احساس بستا ہو کہ جہاں عبد خاکی ہو مگر نور کی ان کرنوں سے سجا کہ جو اس سے جڑے اس کیفیت، اس فرق، اس احساس میں خود کو اترتا خودبخود محسوس کرے کہ جیسے ایک پست سے موڑ پہ کھڑا عام مٹی کا وجود ہو پر ایسے کہ جیسے مقناطیس ہو کہ جہاں موجود ہو سب کھچتے چلے جائیں جو سب کو جوڑ دے، اور خود سے جڑنے والوں کی تاریکیوں کو اس پاکیزہ روشنی سے بدل دے جس وجود کا سحر اس کے سائے میں موجود ہر اہل دل کو اپنا اسیر بنا کسی حکم کے بنا کسی رعب کے کر دے- – – –

کچھ وجود ایسے ہوتے ہیں
درد میں ڈوب کر بھی
سکون بانٹ لیتے ہیں
چوٹ سے رستے ہوئے وجود سے
مرہم چھان لیتے ہیں
کسی کی آنکھ کا انسو
بڑی اپنائیت سے پونچھ لیتے ہیں
کسی بے چین دل کو
سکون کا پیرہن دیتے ہیں- – –
جو بندے رب کے ہوتے ہیں
مگر وہ سب کے ہوتے ہیں

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY