چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ اصل معاملہ امریکی حکومت کو لکھا گیا میمو ہے، حسین حقانی کی واپسی نہیں۔ ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، اب حسین حقانی کی گرفتاری اور ٹرائل ریاست کا معاملہ ہے کیا ریاست اب بھی میمو کا خوف محسوس کرتی ہے؟ سپریم کورٹ کا اب اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ اگر درخواست گزار نہیں آیا تو ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ اصل معاملہ حسین حقانی کی واپسی کا نہیں، میمو کا ہے جو امریکی حکومت کو لکھا گیا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ آٹھ سال سے اس معاملے پر عدالت کا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ کیا ریاست اب بھی میمو کا خوف محسوس کرتی ہے؟ کیا ریاست پاکستان اور ہمارا آئین اتنے کمزور ہیں کہ ایک میمو سے ڈر جائیں؟ اللہ کا کرم ہے یہ بہت مضبوط ملک ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن رپورٹ کی روشنی میں ایف آئی آر بھی درج ہو چکی، اب اس پر عمل کرنا ریاست کا کام ہے، سپریم کورٹ کا اب اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔













