ڈینئل پرل کیس تفصیلی فیصلہ: ‘استغاثہ شواہد کے ساتھ قتل ثابت کرنے میں ناکام رہا’

0
567

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈینئل پرل قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق استغاثہ شواہد کے ساتھ قتل ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت کا تفصیلی فیصلے میں کہنا تھا کہ ہتھکڑی لگا ملزم اعتراف جرم کرے بھی تو اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ قتل کی پیش کی گئی ویڈیو میں ملزمان کی شناخت نہیں ہو سکی۔

تفصیلی فیصلہ دو ایک کی اکثریت سے سنایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں اس کیس کا فیصلہ 28 جنوری کو سنایا تھا اور اب اس کیس کا 95 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا ہے۔

جسٹس مشیر عالم اور جسٹس طارق مسعود نے ملزمان کی رہائی کا فیصلہ سنایا تاہم جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھا اور مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کی درخواست مسترد کی۔

انہوں نے ملزم ثاقب اور عادل کے لیے ہائی کورٹ سے بریت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کسی اور کیس میں مطلوب نہ ہونے پر انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دیا۔ جب کہ احمد عمر شیخ اور فہد نسیم پر اغوا اور دہشت گردی کی دفعات کو تسلیم کیا اور دونوں ملزمان کو قتل کے الزام سے بری کیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے دیے گئے فیصلے میں تفتیش کاروں کی سنگین غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

عدالت کا تفصیلی فیصلے میں مزید کہنا تھا کہ ڈینئل پرل کے اہل خانہ کی وجہ سے تفتیش میں خامیاں سامنے آئیں۔ ڈینئل پرل کی اہلیہ نے قتل کی دھمکیوں والی ای میلز کو چھپائے رکھا۔ شوہر کی جان خطرے میں تھی اور اہلیہ 12 روز خاموش رہی۔ ایف آئی آر میں ای میلز کا ذکر کیا اور نہ ہی شاملِ تفتیش ہوئیں۔

گواہان کے بیانات میں تضاد
جسٹس سردار طارق محمود کے تحریر کردہ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کا کیس گواہ آصف محفوظ فاروقی اور عامر افضل کی طرف سے دیے گئے بیانات تھے۔ جن کا کہنا تھا کہ قتل کی سازش ہوٹل اکبر انٹرنیشنل کے کمرہ نمبر 411 میں 11 جنوری 2002 میں تیار ہوئی۔ ڈینئل پرل پیر مبارک شاہ جیلانی سے ملاقات کرنا چاہتا تھا اور اس مقصد کے لیے صحافی آصف فاروقی نے انہیں ملانے کا کہا تھا۔ بعد ازاں عارف نامی شخص نے ڈینئل پرل کو بشیر نامی شخص سے ملوایا جو استغاثہ کے مطابق احمد عمر شیخ تھا۔

فیصلے کے مطابق ہوٹل اکبر انٹرنیشنل میں تین گھنٹے تک ملاقات ہوئی لیکن استغاثہ کی طرف سے عارف نام کے شخص کے بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ اس کی ڈینئل پرل سے کس نے ملاقات کرائی تھی۔ گواہ عارف نامی شخص کو جانتا نہیں اور کمرہ نمبر 411 میں ہونے والی ملاقات میں کسی سازش سے انکار کیا۔ لہذا استغاثہ اپنا یہ نکتہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ قتل کی سازش ہوٹل اکبر انٹرنیشنل کے کمرہ نمبر 411 میں تیار ہوئی۔

فیصلہ میں کہا گیا کہ گواہ عامر افضل ہوٹل کا میزبان تھا لیکن اس کی جانب سے کمرہ نمبر 411 بک کرنے والے مظفر فاروقی نامی شخص (جس کو بعد میں احمد عمر شیخ بتایا گیا) کا شناختی کارڈ دیا گیا تھا۔ لیکن اس کی کاپی کبھی کیس میں شامل نہیں ہوئی۔ ریکارڈ میں مظفر فاروقی کا شناختی کارڈ نمبر بھی موجود نہیں ہے۔ گواہ عامر نے پولیس کو بیان میں پہلے کمرہ نمبر 417 بتایا اور بعد میں کمرہ نمبر 411 کا کہا۔ گواہ اس معاملے میں مختلف بیان دیتا رہا۔ اس کے علاوہ گواہ نے کبھی بھی تسلیم نہیں کیا کہ وہ مظفر فاروقی کو جانتا ہے۔ گواہ نے ہوٹل کا کوئی کسٹمر رجسٹر پیش نہیں کیا جس میں ہوٹل کے تمام مہمانوں کے آنے جانے، ان کی معلومات اور دیگر ریکارڈ موجود ہو۔

فیصلے میں کہا گیا کہ گواہ عامر افضل نے خود کو ہوٹل کا ریسپشنسٹ بتایا لیکن سوال و جواب کے دوران گواہ کو ہوٹل کا صحیح سے پتا بھی معلوم نہیں تھا۔ لہذا یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ غلط شخص کو بطور ریسپشنسٹ پیش کیا گیا۔ گواہ آصف فاروقی نے بھی کمرہ نمبر 411 میں قتل کی کسی بھی سازش کے الزام کی تردید کی۔

اس کے علاوہ گواہ عامر افضل کبھی بھی مظفر فاروقی کو احمد عمر شیخ کے طور پر شناخت کرنے کے لیے شناخت پریڈ میں شامل نہیں ہوا۔ اس وجہ سے عدالت میں گواہ کی طرف سے ملزم کی شناخت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

SHARE

LEAVE A REPLY