بابا بلھے شاہ نے شاید میری ہی کیفیت کے لئے کہا تھا
نہ تیری نہ میری
چار دناں دا میلہ
دْنیا فیر مٹی دی ڈھیری۔
آج کی رات کٹھن رات تھی ۔۔۔ رپورٹس کے رزلٹ کیا ہونگے ۔۔ میں صرف ایک دعا کر رہی تھی ۔۔ میرے پاک رب میں نے اپنی زندگی بڑی ہمت اور بہادری اور گریس فل گزاری ہے ۔۔ مجھے عزت کی موت دینا۔۔ میں کسی بھی موقع پر شکوہ نہیں کرنا چاہتی ہوں ۔ ۔۔ میں تجھ سے خفا ہونے کاسوچ بھی نہیں سکتی ۔
میں تیری شکر گزار ہوں ۔۔ تیری رضا ہی میں مرنا چاہتی ہوں ۔
توں نے مجھے دنیا کے بہترین والدین دیئے
مجھے بہت اچھی ماں بنایا ۔۔ مجھے منیب نجیب اور آمنہ دیئے ۔۔

میرا ہمسفر اتنا اچھا جس کی تمنا کوئی بھی عورت کر سکتی ہے ۔ ۔۔
مجھے تعلیم وعلم سے آراستہ کیا ۔۔
مجھے محبت دی ۔۔ محبت سکھائی ۔۔ محبتوں کی پاسداری اور انہیں نبھانا سکھایا ۔ مجھے اپناہی ناقد بنایا ۔۔ مجھ سے بے زبان محبتوں کی کہانیاں لکھوائیں
بے انتہا پیار کرنے والے بہن بھائی ۔۔۔ عزت دینے والے محبتی دوست ۔۔ اجنبی دعاؤں کی چھاؤں تک میں رکھا ۔۔۔
میرے نصیب میں رسول پاک ص اور آل پاک ص کی چوکھٹ پر جھکنا لکھا ۔۔ مجھے ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سکھایا

مجھے ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سکھایا
مجھے بہترین اساتذہ کی مہربانیاں نصیب ہوئیں ۔۔۔
مجھے تو نے کبھی نہیں ترسایا ۔۔ دل و نظر کے کاسے کو ہمیشہ بھرا رکھا
بس میرے خدا ۔۔۔ میرا مان ہے تو ۔۔ میرے دامن میں تیرے لیئے کچھ ہو نہ ہو پیار بہت ہے ۔۔ تجھ سے ملنے کا انتظار بھی بہت ہے ۔۔ یہ بھی مان ہے کہ تو مجھے اپنی نماز روزے حج زکواتیں ۔۔ میری کمی کوتاہی معاف بھی کر دے گا ۔۔
میرا یہ بھی یقین ہے کہ تو مجھ سے سب سے زیادہ پیار کرتا ہے ۔۔ لیکن مجھے صرف ایک موقع چاہیئے ۔۔ تھوڑی سی مہلت چاہیئے ۔۔
مجھے معافی مانگنی ہے ان تمام لوگوں سے جن سے میں نے جانے انجانے میں زیادتی کی ہے ۔۔
میرے مالک اس میں میرے اپنے بھی ہیں اور غیر بھی ہیں ۔۔
مجھے نہیں معلوم ان سے کیسے معافی مانگ سکتی ہوں ۔۔۔ تو سمجھا مجھے ۔۔۔ یا میری پکار ان تک پہنچا دے ۔
قسم تیری بزرگی کی میں مرنے سے نہیں ڈرتی ۔۔ جو بھی ہو مجھے اس کی پرواہ بھی نہیں ہے ۔۔ صرف تو جانتا ہے کہ میں اگلے سفر کے لیئے تیار ہوں ۔۔ پر مجھے اپنے پیاروں سے معافی مانگ لینے دے ۔۔ مجھے اپنے مریضوں سے معافی مانگنی ہے ۔۔۔ ہر اس سے جس کومجھ سے معمولی سے بھی تکلیف پہنچی ہو ۔۔۔ بس تھوڑے سے دن ۔۔ تھوڑا سا وقت ۔۔ مجھے یقین ہے مجھے ملے گا بالکل ایسے ہی جیسے تو نے مجھے تمام عمر اپنی برکتوں کے سائے میں رکھا ۔
میں جان بوجھ کر بائیں کروٹ پر لیٹی ہوئی تھی کہ آفتاب کوگمان نہ ہو کہ میں جاگ رہی ہوں ۔۔ ورنہ وہ پریشان ہو جاتے ۔۔ ان کی زندگی میں بھی کتنے سوال آ پڑے تھے ۔۔ سڈنی نے ہم دونوں کو کبھی اکیلے رہنے ہی نہ دیا تھا ۔۔ ساتھ ساتھ رہنا بھی تو محبت کی طرح عادت ہو جاتا ہے ۔۔ ہم دونوں کو ایک دوسرے کی عادت ہو چکی تھی ۔۔ خاموش اور دبے پاؤں محبت کی ڈور کوئی زرا سے ہلا دے تو ڈر تو لگتا ہی ہے بلکل ویسا ہی خوف اور بے بسی آفتاب کی آنکھوں میں مجھے صاف دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔ مجھے لگ رہا تھا ۔۔ جیسے میں تو جنگ کے میدان میں اتر چکی ہوں لیکن میرے میرے پیارے مجھے شہید ہونے سے ہر ممکن روکنا چاہتے تھے ۔۔ وہ سب ہر ممکن وہ کر رہے تھے جس سے میری عمر بڑھ جائے ۔۔ ہر طرح کے صدقہ خیرات جو بلاؤں کو ٹال دے ۔۔۔
اور میں انہیں یہ سمجھا نہیں پا رہی تھی کہ جب مریض اپنے مرض سے آنکھیں ملا کر کھڑا ہونا سیکھ جاتا ہے تو اسے ہی بلاؤں کا ٹل جانا کہتے ہیں ۔۔۔ اسے ہی زندگی میں برکت کہتے ہیں ۔۔ پر انہیں میرا فلسفہ حیات سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔ انہیں میری محبت کچھ اور سوچنے ہی نہ دے رہی تھی ۔۔اور میں جان چکی تھی ۔۔ درد کچھ اور تھا اور دکھ کچھ اور تھے ۔۔۔ کسے سمجھاتی کہ تنہائی اور اکیلے پن کی طرح درد اور دکھ میں فرق ہوتا ہے ۔۔۔کسی بھی بیماری کا درد صرف پانچ فیصد ہوتا ہے باقی صرف دکھ ہوتا ہے۔ میرے سفر کی سب سے حیران کن دریافت یہ تھی کہ درد کا علاج ڈاکٹرز کے پاس تھا لیکن دکھوں کا معالج صرف حکیم الحکما رب تھا۔
رات کے آخری پہر کامعجزہ ہی توتھا ۔۔ مجھے سمجھ آ گئی تھی ۔۔
میرا درد میرا کینسر تھا جس کی دوا میرے ڈاکٹرز کے پاس تھی
میرے دکھ کی دوا کسی ڈاکڑ کے پاس نہیں تھی ۔۔۔وہ صرف میرے پاک رب کے پاس تھی ۔۔ وہ میرے ملال اور میرے دکھ سے واقف تھا ۔۔۔ مجھے اپنی مخلوق سے محبت کی جوزمہ داری اس نے دی تھی وہ پوری نہ کر سکی تھی ۔۔ میر دل کہتا تھا وہ مجھے اس دکھ کی دوا بھی دے گا ۔۔

وہ کہتا ہے کہ آپ جس شخص کو پیار سے یاد کر رہے ہوتے ہیں وہی شخص آپ کو بھی کہیں نہ کہیں یاد کر رہا ہوتا ہے ۔۔ میں جو اپنے رب کو پکار رہی ہوں تو کیا میراپاک رب بھی مجھے یاد کر رہا ہے ۔۔ یقینا کر رہا ہے جبھی تو اس نے مجھے تحفے میں دوستوں اوراجنبیوں کی دعائیں بھیجی ہیں ۔۔ یقین ایسی سرشاری ہوتا ہے جو بیان سے باہر ہے ۔۔
مجھے لگا جیسے ۔۔۔
میرا درد ۔۔ میرا کینسر صرف پانچ فیصد رہ گیا ہو !
اور میرے دکھ اور ملال کی دوا بھی راہ میں ہو ۔۔ بس ایک ذرا انتظار !
جاری ہے
ڈاکٹڑ نگہت نسیم













