امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جی سیون ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ورچوئل میٹنگ ہوئی جس میں شریک 3 عہدیداروں نے امریکی میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے جی 7 رہنماؤں کے اجلاس میں کہا کہ ایران ہتھیارڈالنےکے قریب ہے، ٹرمپ نےکہا ایران میں اب کوئی ایسا اعلیٰ عہدیدارباقی نہیں رہا جو ہتھیار ڈالنےکااعلان کرسکے۔
عہدیداروں کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمزکی صورتحال بہترہورہی ہے،کمرشل جہازوں کو آپریشنزشروع کرنے چاہئیں، ٹرمپ نےکہا ہمیں یہ کام مکمل کرنا ہوگا تاکہ 5 سال بعد ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ نہ ہو تاہم ٹرمپ نےجنگ کے خاتمے سے متعلق اپنے مقاصد اور ٹائم لائن پر واضح مؤقف نہیں دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق جی سیون رہنماؤں نے ٹرمپ پر ایران جنگ فوری ختم کرنے اور آبنائے ہرمز جلد محفوظ بنانے پربھی زور دیا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نیوز ویب سائٹ سے ات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں نشانہ بنانے کے لیے اب کچھ باقی نہیں رہا اور وہاں جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ جب چاہیں گے ایران کی جنگ ختم ہوجائے گی۔
تل ابیب کے قریب اسرائیلی فوجی اڈے پر حزب اللہ کے میزائل حملے کی ویڈیو سامنے آگئی۔
پیر کے روز کیے گئے اس حملے میں حزب اللہ کی جانب سے تل ابیب کے جنوب مشرق میں رملہ فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا جو اسرائیلی فوج کی ہوم فرنٹ کمانڈ کا ہیڈ کواٹر ہے۔
حزب کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں میزائل فائر کیے جانے کے ساتھ ساتھ میزائل گرنے کے مناظر بھی شامل ہیں جن میں اسرائیلی فوجیوں کو پناہ کے لیے بھاگتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
اس حوالے سے جاری بیان میں حزب اللہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ رملہ فوجی اڈا لبنان اور اسرائیل کی سرحد سے 135 کلومیٹر دور واقع ہے۔













