فروری کاآخری ہفتہ تھا درختوں پر نئ کونپلیں پھوٹ رہی تھیں بہار کی آمد آمد تھی یعنی پھول کھلے تھے پات ہرے تھے کم کم باد وباراں ہے کی کیفیت تھی باہر بھی اندر بھی کہ آج ہم ٹیکسلا جارہے تھے جہاں ہمیں نگہت نسیم ،محترم صفدرہمدانی صاحب سے اورشاہین اشرف علی سے ملنا تھا ان کی کتابوں کی تقریب اجرا وپذیرای کی تقریب میں شرکت کرنا تھی ایک بجے جب گھر سےنکلے تو کھانا تیار تھا سب نے کہا کہ کھانا کھا کر جاو نہیں دیر ہوجائے گی یہ کہہ کر ہم تیزی سے گھر سےنکلے مبادا دیر ہوجائے ایکسپریس وے سے اتر کر ڈرائیور نے جو راہ اختیار کی کچھ کچا راستہ کچھ پکا، سیمنٹ فیکٹریاں، ٹرکوں کی قطاریں، ہوٹل ہچکولے کھاتےبالآخر ٹیکسلا یونیورسٹی پہنچ ہی گئے -سوا تین بج رہے تھے شکر کیا کہ بر وقت پہنچ گئے مگر یہ کیا یہاں تو کسی ایسی تقریب کا نام ونشاں نہیں طلبا و طالبات کی ٹولیاں جگہ جگہ دکھائی دیں ہر ایک کو روک روک کر پوچھا تفصیل بیان کی نگہت نسیم آسٹریلیا سے آئی ہیں شاہین کویت سے صفدرہمدانی صاحب لندن سے جوابا”لوگ بیگانگی سے دیکھتے ہمیں نہیں معلوم چلیں آپ فلاں ہال میں جا کر دیکھ لیں یوں کوئی دوڈھائی گھنٹے یونیورسٹی کاکونہ کونہ چھان مارا فون پر رابطہ نہیں ہو پارہا تھا پریشانی بڑھتی جا رہی تھی کہ آخر نگہت سے رابطہ ہوگیا پتہ چلا فنکشن تو شام 6 بجے ہے ہم ٹیکسلا کسی کے گھر ہیں ایسا کرو ادھر ہی آجاو انہوں نے میزبان سے بات کروائی مزید کافی دیر مختلف گیٹوںسےنکلتے ہوے آخر منزل مقصود تک پہنچ گئے گھر پہنچے تو نگہت ہنستی مسکراتی چشم براہ بازو وا کیے دروازے پر ہی گرم جوشی سے اسقبال کیا لگا ہی نہیں کہ پہلی بار مل رہے ہیں محسوس ہوا جیسے برسوں کی شناسائی ہے میں نے سرجھکا کر دل ہی دل میں رب کاشکر اداکیا کہ ہمیشہ کی طرح تخریب میں تعمیر کا پہلو پوشیدہ -جو مایوسی اورکوفت ہوئی وہ خوشی میں بدل گئی

چائے پی بےتکلف گپ شپ ہوئی بہت سے موضوعات زیر بحث آئے انکی زبانی انکی کہانی بابا صاحب سے پہلی ملاقات، ان کی عقیدت، کچھ خوابوں کاتذکرہ کچھ ہنستے ہوئے کچھ آنسوؤں کی روانی میں شاہین کو بخار تھا وہ سوئی ہوئی تھیں مغرب کی نماز پڑھ کر ہم تقریب کے لئے روانہ ہوئے ایک بارپھر انہی گیٹوں میں داخل ہوےتو رات کے سائے پھیل چکے تھے آسمان پر چاند چمک رہا تھا تقریب کے لئے کوئی کلاس روم مختص تھا فرحین چودھری جانے کب سے انتظار کر رہی تھیں اندر جا کر پھر مایوسی ہوئی کہ ہمارے اورمنتظمین کے علاوہ دوچار لوگ تھے خیر آپس میں گپ شپ کے لئے مزید وقت مل گیا فرحین سے غائبانہ تعارف ناصر علی سید صاحب کے کالموں کے حوالے سے تھا ان سے بھی گفتگو مزے کی رہی خیر خدا خدا کرکے تقریب کا آغاز ہوا نوید کی شاندار نظامت میں فرحین چودھری نے خوبصورت تقریر کی نگہت نسیم نے کتابوں کے حوالے سے شاںدار گفتگو اورنظم سنائی کچھ فی البدیہہ ہم نےبھی نگہت نسیم سےدوستی اور دعاوں کے چراغ کے حوالے سے بات کی ملیح سی رنگت، پروقار انداز میں شاہین آئیں آپنے انداز تخاطباورآواز کے زیر و بم کے ساتھ نظم سنائی
ٹیکسلا کو پتھروں کا شہر کہا جاتا ہے قرآن پاک میں ہے کہ بعض پتھر ایسے کہ آنسو نکل پڑتے ہیں چشمے ابل پڑتے ہیں دوسرے حصے میں مشاعرے کاآغاز ہوا تو پتھروں کے اس شہر میں گداز دل نوجوان نسل کاکلام سننے کو ملاغزل کی مشکل صنف کواپناتے ہوئے غم دوراں و غم جاناں کی عکاسی اپنے اپنے منفرد لب و لہجہ کے ساتھ کہ بےاختیارداددینےپر مجبور –
صفدرہمدانی صاحب آخر میں آے تو سماں باندھ دیا احتجاجی لب و لہجہ اورگفتگو
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
اس تقریب کے مہمان خصوصی بزرگ شاعر مطہر اشعر صاحب تھے
مطہر اشعر صاحب نے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود جواں ہمتی کے ساتھ اس طویل نشست و مشاعرہ کو سناداددے کر جوان شاعروں کی حوصلہ افزائی کی آخر میں اپنا کلام بھی بہت عمدگی کے ساتھ سنایا اوربھرپور داد پائی اس کے ساتھ ہی یہ تقریب اختتام کو پہنچی

گھرسے بار بار مسلسل فون آرہے تھے میں تیزی سے گاڑی تک آئی تو شدید سردی اوربھوک کا احساس ہوا ساتھ ہی ڈراورخوف کہ آج ضرور ڈانٹ ڈپٹ ہوگی کہ ایبٹ آباد پہنچتے پہنچتےابھی مزید دیر لگے گی قرآنی آیات کاورد کرتے ایبٹ آباد پہنچے تو تاریخ بدل چکی تھی ہمارے پاس آج کی خوبصورت یادیں اوربابا صاحب سے ملاقات نیز شاہین جیسی نفیس واچھی دوست کاملنا اہم بات تھی جس کے لئے نگہت کی احسان مند جنکی دوستی میں مزید اچھے دوستوں کا اضافہ ہوا خوش رہیں
نصرت نسیم













