دوستی کے پیغام کو بزدلی نہ سمجھا جائے۔۔ آسٹریلوی پاکستانیوں کا پیغام
گذشتہ دنوں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں کچھ شر پسند جنگی جنون رکھنے والے بھارتیوں نے پاکستان کے خلاف ریلی نکالی ٘اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے ۔ اور اس کے ساتھ آسٹریلین گورنمنٹ سے پاکستانیوں کے ویزوں کی پابندی کا مطالبہ کیا۔
حیرت انگیز طور پر پاکستانی کمیونٹی لیڈران کی خاموشی نے انکے حوصلوں کو اور بلند کیا اور وہ ہر طرع سے پاکستانیوں اور پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے میں زہریلی جھوٹی خبریں اور تبصرے عام کرنے لگےہوئے ہیں ۔۔ ایسی صورتحال میں انکو محبت کے ساتھ مگر ذور دار جواب دینا وقت کی ضرورت بن گیا تھا۔ اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلانے اور امن پسند آسٹریلوی پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے پہچان 786 کمیونٹی گروپ کی ڈاریکٹر شفق جعفری نے روٹی ہل مسجد کی انتظامیہ کے تعاون سے امن کی اجتماعی دعا اور پرامن احتجاج کا اھتمام روٹی ہل مسجد کے سامنے ہوا جس میں بڑی تعداد میں آسٹریلوی پاکستانی نے اپنے خاندانوں سمیت شرکت کی اور امن قائم ھونے کی خواہش اور امید کا اظہار کیا۔
مختلیف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں نے ایکبار پھر بھارتیوں سے کہا کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں نہ ہے۔ دونوں ممالک کے عوام جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نقصانات کو برداشت نہیں کر سکتی ھے۔۔وہیں کچھ جوشیلے نوجوانوں کا خیال تھا۔۔
“ ھماری آرمی بہت بہادر ، ملک کی وفادار اور منہ توڑ جواب دینا جانتی ھے ۔۔۔جذبہ شہادت سے سرشار پاکستانی سپاہی بھارتی کمزور فوج کو مٹی میں ملا دینگے ۔۔ھماری امن کی درخواست اور دوستی کے پیغام کو بزدلی نہ سمجھا جائے “
وزیراعظم پاکستان نے پائلٹ کی واپسی کا اعلان کرکے دنیا پہ ثابت کردیا کہ پاکستان امن ودوستی کا علمبردار ھے لیکن انڈین میڈیا کو صرف اتنی نصیحت کہ جو دوستی نہیں ممکن تو پھر یہ عہد کریں
کہ دشمنی میں بہت دور تک نہ جائیں گے ۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے سرگرم جرنلسٹ ، مختلف ایسو سی ایشن کے لیڈران اور تو اور پی ٹی آئی کے زمیداران نے بھی شرکت نہیں کی ۔ مذید یہ کہ اس پر امن احتجاج کو مذہبی رنگ اور منسوخ کرمنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔
جس وطن نے ہمیں پہچان دی ، اس قابل بنایا کہ آسٹریلوی شہری بن کر آرام دہ زندگی گزاریں ، اسی ملک کی عظمت کو داغدار کرنے کی کوشس کرنے والوں کا جواب نام نہاد پاکستانی لیڈران اس لئے نہیں دینا چاہتے تھے کہ انکی ذاتی دوستیاں اور کاروباری مفادات متاثر نہ ھو جائیں ۔۔انکی خاموشی کو انکی ہار اور بےبنیاد الزامات کا اقرار سمجھا جانے لگا تھا ۔۔ خواتین گروپ کے اصرار پر بھی یہ بہانا بنایا گیا تیاریوں کہ لئے کافی وقت اور افراد کی ضرورت ہوتی ھے۔۔سب نوکریوں میں مصروف ھیں جیسے بہانے بنائے گئے ۔
اس موقع پر پہچان 786 کمیونٹی گروپ کی ڈاریکٹر شفق جعفری نے اپنی تقریر میں کہا “ احتجاج ایک آدمی بھی بلند کر سکتا ھے جو حب الوطنی کہ جذبہ زندہ ھو۔۔۔نہ ھمارے جذبات ، نہ جوش نے چوڑیاں پہن رکھی ھیں کہ ھم وطن اور ھم وطنوں پہ دہشتگردی کا الزام برداشت کرلیں ۔ “ انہوں نے مزید کہا “ امن کا ، دوستی کا پیغام عام کیا جائے پر اپنے وجود کے احساس اور اپنی افواج کی طاقت و توانائی کو اعتبار کے ساتھ ۔ دعا ہے کہ نفرتوں کی دیواریں گر جایئں اور پاکستان اور بھارت میں امن ہو جائے ۔
رپورٹ ؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
عالمی اخبار ،سڈنی














عمدہ رپورٹ