ماہرین طب کے مطابق، موسم سرما شروع ہوتے ہی سوائن فلو، برڈ فلو اور پرندوں سے پھیلنے والے دیگر خطرناک وائرس کا شدید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

سائبیریا اور دیگرسردممالک سے سردیوں میں بعض پرندے ہجرت کرکے کراچی کے ساحل پرآجاتے ہیں اورموسم تبدیل ہوتے ہی یہ پرندے واپس چلے جاتے ہیں۔ ان پرندوں میں بیشتر پرندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو برڈ فلویا دیگر فلووائرس سے متاثر ہوتے ہیں اوران کی بیٹ سے برڈ فلووائرس جنم لیتا ہے.

کراچی میں برڈ فلو وائرس 8سال سے رپورٹ ہورہا ہے، چونکہ مرغیوںمیں یہ وائرس تیزی سے جنم لیتاہےاس لیے پولٹری میں کام کرنے والے افراد میں یہ وائرس آسانی سےمنتقل ہوجاتاہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ سردموسم میں فلووائرس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ برڈ فلومتاثرہ افرادکے کھانسنے اورچھینکنے سےدیگرافرادکوبھی منتقل ہوجاتاہے۔اس طرح ہر سال ہزاروں افراد متاثر ہوتے ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق، کراچی میں بیروں ممالک سے آنے والوںسے بھی اس وائرس کی منتقلیممکنہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایئرپورٹ پر اسکینربھی نصب کیے گئے جہاں سے مسافروں کو گزارا جاتاہے، اسکینر تیزبخار میں مبتلاافرادکی فوری نشاندہی کرتاہے۔

افریقی ممالک سے آنے والے اکثر مسافرمختلف وائرس کا شکارہوتے ہیں، کراچی ایئرپورٹ پرمتاثرہ مسافروں کی اسکینگ درست نہیں کی جاتی جس کے باعث افریقہ اور دیگرممالک سے آنے والے افرادکے ذریعے یہ مختلف وائرس کراچی منتقل ہوجاتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY