منزہ سہام بھیک نہیں انصاف مانگ رہی ہے،دلشاد نسیم

0
524

ہم جب بھی ظلم اور زیادتی کی بات کرتے ہیں بالخصوص عورت کے حوالے سے تو ہمارے ذہنوں میں بہت عام سی لاچار اور غریب طبقے کی کم پڑھی لکھی خاتون کی تصویر بنتی ہے مگر جب بات ہو ایک پڑھی لکھی ، بہادر اور صاحبِ قلم عورت کی تو ظلم اور زیادتی کی منطق سمجھ نہیں آتی ۔۔ یا پھر یوں کہیں کہ حریف زیادہ طاقتور ہے مگر یہاں بات ظالم اور مظلوم کی نہیں طاقت اور کمزور کی بھی نہیں یہ جنگ ہے سچائی اور حق کی ، ایک عورت جو دس سال سے اپنے حق کے لیے لڑ رہی ہے اور ناکام ہے یہ اس کی جنگ ہے ۔۔ سچ پوچھیں تو یہ جنگ نہیں ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عدالتی نظام پر طمانچہ ہے ۔
اگر یہ ناکامی ایک با حیثیت عورت کی ہے تو سوچیں عدالتیں غریبوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہوں گی ۔۔
میں جس عورت کا ذکر کر رہی ہیں وہ کوئی عام عورت نہیں منزہ سہام مرزا ہیں ۔۔
منزہ سہام مرزا صحافت کی دنیا کا معتبر اور جانا پہچانا نام جو کہ ماہنامہ “دوشیزہ ڈائجسٹ” اور “سچی کہانیاں” کی ایڈیٹر ہیں ۔
میرا اور دوشیزہ کا ساتھ آج کا نہیں بہت پرانا ہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب مرزا صاحب حیات تھے اور ڈائجسٹ کے باگ ڈور ان کے ہاتھ میں تھی ان کے انتقال کے بعد منزہ نے جس جواں مردی سے دونوں ڈائجسٹوں کا بوجھ اپنے کمزور شانوں پر اٹھایا اس کی مثال نہیں ملتی ۔۔ میری جب بھی ان سے ملاقات ہوئی ہے میں نے انہیں ایک مکمل ، بہادر ،بااعتماد عورت پایا ہے ۔۔ کئی نئے لکھنے والوں کو انہوں نے متعارف کرایا اور ہمیشہ سراہا
میں لکھوں یا نہ لکھوں مجھے ہر ماہ ڈائجسٹ ملتے رہتے ہیں ہر چیز اتنی روٹین میں ہوتی رہی کہ اندازہ ہی نہیں ہوا منزہ کس ذہنی کرب کا شکار ہیں ڈاکٹر نگہت نسیم کے پروگرام ” رزقؑ فکر” کے ذریعے پتہ چلا تو بہت دکھ ہوا میں ذاتی طور پر منزہ کے اس دکھ میں نہ صرف شریک ہوں بلکہ شرمندہ بھی ہوں کہ ان کے دکھ کا اندازہ نہیں کر سکی ۔۔ بظاہر بہت مضبوط نظر آنے والی منزہ درحقیقت آج کل شدید ذہنی دباو کا شکار ہیں ۔۔ میں ذاتی طور پر حکومت پاکستان سے اپیل کرتی ہوں کے دس سال سے چلنے والے اس مقدمے کا فیصلہ کسی بھی طرح سے ماں کے حق میں کریں پرہشان بے بس عورت کے حق میں کرہں ۔۔ وہ عورت جو کمزور نہیں ہے لیکن طاقتور معاشرے نے آہستہ آہستہ اس کا اعتماد چھین لیا ہے اس کا خود پہ اعتماد بحال کریں ۔۔
ان کے ساتھ اسی انصاف کا مظاہرہ کریں جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا ۔۔ وہ ہی انصاف جس کی خوش نما تصویر نے ہمیں ریاستِ مدینہ کے خواب دکھائے ۔۔
دلشاد نسیم لاہور 

SHARE

LEAVE A REPLY