افریقی ملک موزمبیق میں انتہائی تیز رفتار ہواؤں کے ساتھ آنے والے طوفان باد و باراں کے باعث ہلاکتوں کی کل تعداد ممکنہ طور پر ایک ہزار تک ہو سکتی ہے۔
یہ بات ملکی صدر فیلیپ نیُوسی نے پیر کے روز بتائی۔ ’ایدائی‘ نامی اس طوفان کے باعث ملک کے وسیع تر علاقے زیر آب آ گئے تھے جبکہ ملک کا ایک بڑا شہر گزشتہ کئی دنوں سے باقی ماندہ دنیا سے کٹا ہوا ہے
بین الاقوامی ریڈ کراس فیڈریشن اور ریڈ کریسنٹ سوسائیٹز کے کارکنوں پر مشتمل ایک ٹیم اتوار کو تباہی کا نشانہ بننے والے شہر پہنچی تاکہ صورت حال کا تخمینہ لگایا جا سکے۔
ٹیم کے سربراہ جیمی لی سیور نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی جائزے سے پتا چلتا ہے کہ بیرا شہر کا 90 فی صد حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ موزمبیق، ملاوی اور زمبابوے کے 15 لاکھ سے زیادہ افراد سائیکلون سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہزاروں لوگوں کے پاس سڑکوں اور ٹیلی فون تک رسائی نہیں رہی، جن میں اکثریت غربیوں اور دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی ہے۔
سمندری طوفان آئیڈائی جمعرات کو موزمبیق کے ساحلی شہر بیرا سے ٹکرایا تھا۔ جس میں طوفانی ہواؤں کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک تھی۔ اس کے بعد طوفان مغرب کی جانب ملاوی اور زمبابوے کی طرف بڑھ گیا۔













