دل پہ سجتا ہے عشق…
… اور عشق پہ جنوں جچتا ہے…. جنوں پہ سجتی ہیں لگامیں…
اور لگاموں پہ ہنر جچتا ہے…
ہنر مندی پہ سجتے ہیں ہاتھ سجانے والے… اور سجانے والے پہ خرد مند جچتا ہے…
عشق بے مول کہاں بکتا ہے… جہاں قیمت ہو وہاں جچتا ہے…
اسکی قیمت ہے وجود کا سودا…
اور سودے پہ حسین لگتی ہے اسیری عمر بھر کی….
اسیری کا حسن ہے تابعداری…
اور تابعدار تو کہتے ہیں ہمیشہ ہاں ہی… اور ہاں کو فقط ہاں جچتا ہے…..
درد کو جچتی ہے سرزمین روح کی… اور دل کو روح کا وہ سوز جچتا ہے….
دلسوز کو جچتا ہے تفکر کا سمندر….
اور تفکر کو حقیقت کا نگین جچتا ہے….
کرب کو جچتی ہیں اترتی آہیں… روح کو خاموشی کا ہر منظر جچتا ہے….
بولنے والے کو جچتے ہیں چاند اور ستارے…..
مگر نگہبان کو اندھیروں کا سمندر جچتا ہے….
ازیت کو جچتی ہے پرواز خرد مندی… اور جنگجو کو دشمن ستمگر جچتا ہے….
چلنے والے کو جچتی ہیں پر کیف راہیں… اور راہوں کو منزل کا حسن جچتا ہے….
آنکھوں کو جچتے ہیں خواب سہانے لیکن….
راتوں کو فکر کا سورج جچتا ہے….
عبادت کو جچتی ہے طہارت روح کی….
اور مرنے والے کو حیات کے سینے پہ زندگی کا وہ دلکش منظر جچتا ہے….
جینے والے کو تو جچتی ہے تمنا جینے کی اور مرنے والے کو شام کا ہر منظر جچتا ہے….
دل کو جچتی ہے ظرفیت محبت… اور عشق پہ بس وہ اک ستمگر جچتا ہے….
جانے والے کو جچتی ہیں منتظر آنکھیں… اور آنکھوں کو وہ طاہر
پیامبر جچتا ہے….
اہل علم کو جچتی ہے تہزیب ادب… اور باادب کو صبر کا امتحان جچتا ہے….
صابر کو تو جچتا یے صبر جمیل… اور ہر جمال کو اوج فکر جچتا ہے…
قلب کو جچتا ہے قلب سلیم اور عقل کو علم کا گو ہر جچتا ہے….
محبت کو جچتی ہیں دوریاں مسلسل…. اور دوریوں کو تخیل کا سفر جچتا ہے…..
حقیقت کو جچتی ہے سچائی کی دلیل… اور دلیل کو شجاعت کا ثمر جچتا یے…..
آنسو کو جچتی ہے سجدوں کی تنہائیاں اور تنہائیوں کو رب کا زکر جچتا ہے…..
فائزہ عباس













