فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے مشکلات کا شکار حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ اپوزیشن کی حمایت کے بغیر وہ عدالتوں کے حوالے سے قانون سازی نہیں کرسکے گی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس آئندہ ہفتے (12 اپریل) ہونے جارہا ہےلیکن اب تک حکومت فوجی عدالتوں کی مدت میں دورسی مرتبہ توسیع کے لیے بل پیشکرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
خیال رہے کہ ان عدالتوں کی مدت 2017 میں 28 آئینی ترمیم کے تحت دی گئی پہلی توسیع کے 2 سال مکمل ہونے کے بعد 30 مارچ کو اختتام پذیر ہوچکی ہے۔
اس بارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بغیر اتفاق رائے کے بل پیش کرنا لاحاصل ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’یہ آئینی ترمیم ہے اور بل اسی وقت پیش کیا جائے گا جب اس حوالے سے کوئی اتفاق رائے ہوجائے‘۔
یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ آئینی ترمیم صرف اس صورت میں منظور ہوسکتی ہے جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اس ترمیمی بل کے حق میں اراکین کی 2 تہائی اکثریت ووٹ دے۔
اس حوالے سے جب وزیرخارجہ سے پوچھا گیا کہ کیا اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے پر کوئی لچک کا مظاہرہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پہلے بات چیت کے لیے تو راضی ہوجائے۔











