دس / نومبر 1958ء کومعروف شاعر حیدر دہلوی کراچی میں انتقال کرگئے

0
257

دس / نومبر 1958ء کو اردو کے معروف شاعر حیدر دہلوی کراچی میں انتقال کرگئے

وقار زیدی ۔ کراچی

حیدر دہلوی کی وفات

دس / نومبر 1958ء کو اردو کے معروف شاعر حیدر دہلوی کراچی میں انتقال کرگئے۔ حیدر دہلوی کا اصل نام سید جلال الدین حیدر تھا اور وہ 17 / جنوری 1906ء کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے نو سال کی عمر میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا اور 13 برس کی عمر میں مشاعروں میں شرکت کرنے لگے۔ وہ شاعروں کی اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جو داغ و مجروح کی تربیت یافتہ نسل تھی۔ خمریات کے موضوعات کی مضمون بندی میں انہیں کمال حاصل تھا اسی لیے ارباب ہنر نے انہیں خیام الہند کے خطاب سے نوازا تھا۔
آزادی کے بعد حیدر دہلوی‘ پاکستان آگئے پہلے انہوں نے ڈھاکا میں قیام کیا پھر کراچی میں اقامت اختیار کی اور بالآخر یہیں پیوند خاک ہوئے۔
حیدر دہلوی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
چمن والوں سے مجھ صحرا نشیں کی بودو باش اچھی
بہار آکر چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی
……٭٭٭……
اب سے نہیں اول سے ہوں مشتاق نظارہ
آنکھوں سے نہیں نیند مقدر سے اڑی ہے
……٭٭٭……
عشق کی چوٹ تو پڑتی ہے دلوں پر یک سر
ظرف کے فرق سے آواز بدل جاتی ہے
حیدر دہلوی کا مجموعہ کلام ان کی وفات کے بعد صبح الہام کے نام سے شائع ہوا تھا وہ کراچی میں پی ای سی ایچ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آغا طالش کی پیدائش

پاکستان کے نامور فلمی اداکار آغا طالش کا اصل نام آغا علی عباس قزلباش تھا اور وہ 10 / نومبر 1923ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔
انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے بمبئی میں بننے والی فلم سرائے سے باہر سے اپنی فلمی زندگی کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان پشاور سے منسلک ہوئے اور پھرفلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے۔ پاکستان میں ان کی مشہور فلموں میں نتھ، جھیل کنارے، دربار حبیب، سات لاکھ، باغی، شہید، سہیلی ،فرنگی، زرقا، وطن، نیند، کنیز، لاکھوں میں ایک، زینت، امرائو جان ادا اور آخری مجرا کے نام سرفہرست ہیں۔ انہوں نے 7 فلموں میں نگار ایوارڈ حاصل کیا تھا۔
19 / فروری 1998ء کو آغا طالش وفات پاگئے۔ وہ کریم بلاک علامہ اقبال ٹائون لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیپٹن محمد سرور(نشان حیدر) کی پیدائش

پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشان حیدر حاصل کرنے والے پہلے سپوت کیپٹن محمد سرور 10 / نومبر 1910ء کو موضع سنگھوری، تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ 1944ء میں وہ فوج میں شامل ہوئے۔ 1948ء میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کی سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں کشمیر آپریشن پر مامور کیا گیا۔
یہ 27 / جولائی 1948ء کا واقعہ ہے جب ان کی بٹالین نے اڑی سیکٹر میں دشمن کی ایک اہم پوزیشن پر حملہ کیا۔ اس حملے کے دوران انہوں نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جان شہادت نوش کیا۔
1956ء میں جب پاکستان میں عسکری اور شہری اعزازات کا آغاز ہوا تو انہیں حکومت پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشان حیدر دیئے جانے کا فیصلہ ہوا۔ 3 / جنوری 1961ء کو یہ اعزاز ان کی بیوہ محترمہ کرم جان نے صدر پاکستان محمد ایو ب خان کے ہاتھوں وصول کیا۔
٭ پاکستان کا سب سے بڑا عسکری اعزاز نشان حیدر حاصل کرنے والے پہلے سپوت کیپٹن محمد سرور کا یوم شہادت 27 / جولائی 1948ء ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصری خان جمالی کی وفات

دس نومبر 1980ء کو پاکستان کے نامور الغوزہ نواز مصری خان جمالی کراچی میں وفات پاگئے۔
مصری خان جمالی 1921ء میں روجھان جمالی، جیکب آباد (سندھ) میں پیدا ہوئے تھے بعدازاں وہ نواب شاہ آگئے جہاں انہوں نے آلات موسیقی بنانے کا کاروبار شروع کیا۔ نوجوانی ہی میں انہوں نے ریڈیو اور پھر ٹیلی وژن سے وابستگی اختیار کرلی۔ انہیں الغوزہ بجانے میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ ان کی دھنیں ملک اور بیرون ملک ہر جگہ مشہور تھیں۔ وہ اپنے زمانے کے بے حد مقبول الغوزہ نواز تھے۔
14 / اگست 1979ء کو حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ نواب شاہ میں قبرستان حاجی نصیر میں آسودۂ خاک ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY