گیارہ جون 1978 نامور اداکا سنتوش کمار دنیا سے رخصت ہوئے

0
278

تقسیم ہند کے فوراً بعد پاکستانی فلم انڈسٹری کو جو اہم ترین چہرہ نصیب ہوا تھا وہ سنتوش کمار ہی کا تھا۔ انہیں یقیناً پاکستانی فلمی صنعت کا مردِ اوّل قرار دیا جا سکتا ہے۔
سن پچاس کے عشرے میں صبیحہ اور سنتوش نے کئی فلموں میں اکٹھے کام کیا تھا مثلاً بیلی، دو آنسو (1950)، غلام (1951)، رات کی بات، (1954) قاتل، انتقام
(1955)، حمیدہ، سرفروش (1956)، عشقِ لیلیٰ، وعدہ، سردار، سات لاکھ
(1957)، حسرت، مکھڑا، دربار (1958) ۔

اِن میں وعدہ اور سات لاکھ ایسی فلمیں ہیں جن کی شوٹنگ کے دوران صبیحہ خانم اور سنتوش کمار (اصل نام موسٰی رضا) ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے اور بالآخر دونوں شادی کے بندھن میں گرفتار ہوگئے۔

سنتوش کمار پہلے ہی شادی شدہ تھے لیکن جمیلہ نامی گھریلو خاتون نے ان کی دوسری شادی پر کوئی اعتراض نہ کیا اور آخری دم تک اُن کی دونوں شادیاں قائم و دائم رہیں۔

سنتوش کمار کا ذکر ہورہا ہے تو اُن کے چھوٹے بھائی درپن کی شادی کا ذکر بھی ہوجائے جو پاکستان کے فلمی حالات سے مایوس ہوکر 1950 میں بمبئی لوٹ گئے تھے لیکن وہاں بھی انہیں صرف ایک فلم عدلِ جہانگیر کے سِوا کوئی اچھا رول نہ مِل سکا چنانچہ انہوں نے پاکستان واپسی کی ٹھانی۔

درپن فلمی دنیا میں ایک ہرجائی ہیرو کے طور پرمشہور تھے لیکن نیّر سلطانہ سے شادی کے بعد وہ ایک کامیاب گھریلو شوہر ثابت ہوئے

قیامِ بمبئی کے دوران البتہ انہوں نے ایک کامیابی ضرور حاصل کی کہ انتہائی حسین و جمیل اور سیکسی اداکارہ نگار سلطانہ کو اپنے دامِ محبت میں گرفتار کرلیا تاہم جب معاملہ سنجیدگی اختیار کر گیا اور نگار نے گھر بسا کر اُن کےساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تو درپن صاحب نے راہِ فرار اختیار کی اور پاکستان چلے آئے۔
یہاں پہنچ کر درپن کی قسمت کا ستارہ خوب چمکا اور سن ساٹھ کے عشرے میں انہیں انسان بدلتا ہے، قیدی، آنچل، اک تیرا سہارا، تانگے والا، شکاری، شباب، نائلہ اور میرے محبوب جیسی کامیاب فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔

نگار سلطانہ نے پاکستان تک اُن کا پیچھا کیا لیکن یہاں آکر انہیں معلوم ہوا کہ درپن تک رسائی کےلیے انہیں نیلو اور شمیم آراء جیسی کامیاب ہیروئنوں کی رقابت مول لینی ہوگی۔

نگار سلطانہ ناکام لوٹ گئیں۔ درپن اور شمیم آراء کے بارے میں فلمی اخبار چے مصالحے دار خبریں چھاپتے رہے لیکن درپن کی جیون ساتھی بننے کا قرعہ اداکارہ نیر سلطانہ کے نام نکلا۔ نیر سلطانہ نے ایک اچھی گھریلو بیوی بن کے دکھایا اور درپن بھی 1981 میں اپنی وفات تک بیوی سے وفادار رہے۔

ملکہ ترم نور جہاں نے اگرچہ بچپن ہی سے فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا تھا لیکن انہیں اصل شہرت فلم خاندان (1944)، زینت (1945) اور جگنو (1947) سے حاصل ہوئی۔ اِن تینوں فلموں کے ہدایتکار شوکت حسین رضوی تھے۔

ملکہ ترنم نورجہاں کی شادی اگرچہ قیامِ پاکستان سے تین سال پہلے ہی اس وقت کے معروف ہدایتکار شوکت حسین رضوی سے ہوگئی تھی لیکن جب دونوں کے بچّے جوان ہوگئے تو نور جہاں نے طلاق حاصل کر کے اداکار اعجاز سے شادی کر لی جوکہ کافی عرصہ کامیابی سے چلتی رہی اور نور جہاں کے بطن سے اعجاز کی تین بیٹیاں بھی پیدا ہوئیں، لیکن ملکہ ترنم کی تنوّع پسند طبعیت آخر کار اس شوہر سے بھی اُوبھ گئی اور انہوں نے اعجاز سے طلاق حاصل کر لی۔

پنجابی فلموں کی ایک جوڑی کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے یعنی نغمہ اور حبیب۔ 1968 سے 1978 تک کے دس برسوں میں ان دونوں نے 20 سے زیادہ پنجابی فلموں میں اکٹھے کام کیا جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں۔ بابل دا ویہڑہ، میلہ دو دِن دا، چن چودھویں دا، مکھڑا چن ورگا، ات خدا دا ویر، سجن بے پرواہ، اک مداری، بالا گجّر، یار مستانے۔

SHARE

LEAVE A REPLY