صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے ایک روز پہلے کے بیان کو پلٹتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی انٹیلی جنیس اداروں کے اس نتیجے کو تسلیم کرتے ہیں کہ روس نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی تھی۔

انہوں نے وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ میں اپنے خفیہ اداروں کی تحقیقات کے اس نتیجے کو تسلیم کرتا ہوں کہ 2016 میں جب ہمارے انتخابات ہوئے تو اس میں روس نے دخل اندازی کی تھی۔

صدر ٹرمپ کے یہ تبصرے ان کے ایک روز قبل کے بیان کے بعد سامنے آئے ہیں۔ پیر کے روز انہوں نے صدر پوٹن کے اس انکار کو اعلانیہ تسلیم کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ روس امریکی صدارتی انتخابات میں کسی بھی دخل اندازی میں ملوث نہیں تھا۔

صدر کے اس بیان پر ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک، دونوں پارٹیوں کے قانون سازوں نے یہ کہتے ہوئے شديد تنقید کی کہ ٹرمپ اپنے ملک کی انٹیلی جینس ایجنسیوں پر ایک غیر ملکی لیڈر کے الفاظ کو فوقیت دے رہے ہیں۔ قانون سازوں نے صدر کے تبصروں کو شرم ناک اور امریکی صدارت کے لیے توہین آمیز قرار دیا۔

منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں ری پبلیکن پارٹی کے قانون سازوں کے ساتھ ملاقات میں صدر ٹرمپ نے کہا جب انہوں نے ہیلسنکی میں اپنے بیان کا تحریری ریکارڈ دیکھا تو انہیں اپنی غلطی کا إحساس ہوا۔

صدر کا کہنا تھا کہ میرے تبصرے کے سب سے اہم جملے میں مجھ سے ایک لفظ غلط طور پر ادا ہوا۔ میں نے Wouldn’t کی بجائے

Would کہا۔ جب کہ اصل میں میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ مجھے ایسی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی کہ وہ روس کیوں نہیں ہے۔

یعنی صدر ٹرمپ کے بقول وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے نہ ہونے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔ لیکن ان سے گفتگو کے دوران Not کا لفظ رہ گیا۔ اور مفہوم الٹ ہوگیا۔

لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی مداخلت کا انتخابی نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا جس میں انہیں ہلری کلنٹن پر فتح حاصل ہوئی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY