کوئٹہ کے نواحی علاقے بلیلی میں ایک پولیس ٹرک پر مبینہ خود کش حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 4 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے ہیں۔
بلوچستان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) غلام اظفر مہیسر کے مطابق رکشے میں سوار خودکش بمبار نے پولیس کے ٹرک سے اپنے رکشے کو ٹکرا دیا جس کی زد میں آ کر عام شہریوں کی دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے غلام اظفر میسر نے بتایا کہ خود کش حملہ آور نے انسدادِ پولیو مہم کی سیکیورٹی کی خدمات انجام دینے کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں کے ٹرک کو نشانہ بنایا۔
ڈی آئی جی پولیس کے مطابق دھماکے سے پولیس کا ٹرک الٹ کر کھائی میں گر گیا جس کی وجہ سے بیشتر اہلکار زخمی ہوئے۔
کوئٹہ سے وائس آف امریکہ کے نمائندے مرتضیٰ زہری کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والے کم از کم 20 اہلکاروں سمیت 25 افراد کو کوئٹہ کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی کوئٹہ کے مطابق واقعے میں ہلاک ہونے والا اہلکار ٹرک کے نیچے دب گیا تھا جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔
ڈی آئی جی پولیس نے کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں میں دو کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ باقی معمولی زخمی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے میں کم از کم 20 سے 25 کلو دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا ہے۔
اسپتال نے واقعے میں ایک بچے کی بھی ہلاکت کی تصدیق کی ہے تاہم اب تک اس کی شناخت نہیں ہو سکی۔
ڈی آئی جی پولیس کا کہنا تھا کہ انسدادِ پولیو ٹیموں پر حملوں کے خطرات کے سبب پولیس اہلکار ان کی سیکیورٹی کے لیے جا رہے تھے۔ جس وقت حملہ ہوا اس وقت انسدادِ پولیو ٹیمیں اہلکاروں کے ساتھ نہیں تھیں۔













