ترکی نے ٹرمپ انتظامیہ کے اُس فیصلے پر تنقید کی ہے، جس کے تحت ایران کی اعلیٰ تربیت یافتہ ملکی فوج پاسداران انقلاب کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اولو نے کہا ہے کہ اس امریکی فیصلے سے خطے میں انتشار اور افراتفری میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی پابندیوں سے عام ایرانی شہریوں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے یہ باتیں بدھ سترہ اپریل کو ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ انقرہ میں ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ شام کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ترکی پہنچے ہیں۔












