چین میں گزشتہ سال زیرو کووڈ رولز کے خاتمے کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین لاپتہ ہونے لگے۔
برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی حکام کی جانب سے گزشتہ برس نومبر کے مہینے میں چین کی زیرو کووڈ پابندیوں کے خاتمے کیلئے احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف خاموشی سے شروع کی گئی کارروائیوں کے بعد کئی لوگ لاپتہ ہو گئے ہیں۔
خبر کے مطابق چینی سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے وقت پولیس کی جانب سے 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، مہینوں گذرجانے کے باجودکئی افراد کے حوالے سے کوئی معلومات میسر نہیں ہو سکی ہے۔
بی بی سی کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے بیجنگ، شنگھائی، گوانگژو اور نانجنگ سمیت دیگر شہروں سے حراست میں لیے گئے تمام افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے البتہ چینی حکام کی جانب سے لوگوں کے زیر حراست ہونے کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
خبر کے مطابق بی بی سی کی جانب سے کی گئی تحقیقات کے بعد کم از کم ایسے 12 افراد کے نام سامنے آئے ہیں جنہیں جھگڑے اور مسائل پیدا کرنے کے الزام میں بیجنگ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
بی بی سی کی خبر کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں زیادہ تر سماجی کارکنان نہیں ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر لکھاری، صحافی، موسیقار، اساتذہ اور فنانشل انڈسٹری کے پروفیشنلز ، امریکا اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں جواپنی بیزاری ظاہر کرنے کیلئے ہاتھوں میں سفید کاغذ کا علامتی ٹکڑا اٹھا کر پرامن احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔












