امریکی ریاست وسکونسن میں صدارتی انتخاب کے حوالے سے ہونے والی ووٹنگ مشکوک ہوگئی جس کے بعد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل آئندہ ہفتے شروع کیے جانے کا امکان ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ریاست وسکونسن کے الیکشن بورڈ نے اس بات پر آمادگی ظاہرکردی ہے کہ وہ ریاست بھر میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرے گی جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی تھی۔

ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست گرین پارٹی کی صدارتی امیدوار جل اسٹین کی جانب سے کی گئی ہے جنہوں نے دیگر دو ریاستوں میں بھی ووٹوں کی گنتی کا مطالبہ کرکھا ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی کم فرق سے کامیاب قرار پائے تھے۔

وسکونس الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ گرین پارٹی کی امیدوار کی جانب سے فیس ادا کیے جانے کے بعد دوبارہ گنتی کا عمل شروع کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ وسکونسن میں تقریباً 30 لاکھ ووٹ کاسٹ ہوئے تھے اور دوبارہ گنتی کے لیے ریاست کے پاس 13 دسمبر تک کی ڈیڈ لائن ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وقت پر یہ عمل مکمل کرنے کے لیے وسکونسن کی 72 کاؤنٹیز کے اہل کاروں کو شام کے اوقات اور ہفتہ وار تعطیلات میں بھی کام کرنا ہوگا۔

دوبارہ گنتی کی فیس کا تعین ابھی نہیں کیا گیا تاہم جل اسٹین نے اپنے فیس بک پوسٹ میں توقع ظاہر کی تھی کہ فیس تقریباً 11 لاکھ ڈالر تک ہوسکتی ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فیس کی رقم کے حوالے سے پارٹی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ وسکونسن، مشی گن اور پنسلوانیہ میں دوبارہ گنتی کی مہم شروع کرنے کے بعد سے انہیں 50 لاکھ ڈالر تک کا چندہ مل چکا ہے۔

یہ تینوں وہ ریاستیں ہیں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کو اتنہائی کم مارجن سے شکست دے تھی۔

گرین پارٹی کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواست کو شکست خوردہ ہیلری کلنٹن کے لیے امید کی کرن قرار دیا جارہا ہے تاہم ان ریاستوں میں ووٹوں کی ری کاؤنٹنگ کا اثر مجموعی طور پر صدارتی انتخاب کے نتیجے پر ہونے کے امکانات انہتائی کم ہیں۔

گرین پارٹی کی رہنما جل اسٹین جنہوں نے مجموعی طور پر ملک بھر سے صرف ایک فیصد ہی پاپولر ووٹ حاصل کیے تھے، کہتی ہیں کہ ان کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ امریکی ووٹنگ سسٹم میں دیانت داری کو جانچنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’الیکشن میں ووٹوں کی تبدیلی کا غلطیوں کے حوالے سے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں لیکن تین ریاستوں میں نتائج کی دوبارہ تصدیق کے عمل سے امریکیوں کو اطمینان ہوجائے گا‘۔

امریکی ٹی وی سی این این کو انٹریو میں جل اسٹین نے کہا کہ ’یہ ہیک زدہ الیکشن تھے‘، ان کا اشارہ کمپیوٹر سیکیورٹی کے ماہرین کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے ہیکنگ کے خطرے اور الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں اور انفرادی شخصیات کے ای میل اکاؤنٹس ہیک ہونے کے واقعات کی جانب تھا۔

مذکورہ تین ریاستوں میں ٹرمپ کو ہیلری پر معمولی برتری تھی اور دوبارہ گنتی کے باوجود اس بات کا امکان نہیں کہ ہیلری کلنٹن کو ان تینوں ریاستوں میں فاتح قرار دے دیا جائے گا اور صدارتی انتخاب کا نتیجہ مکمل طور پر بدلنے کے لیے ہیلری کو تینوں ریاستوں میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی۔

ٹرمپ نے پنسلوانیہ میں ہیلری کو 70 ہزار 10، مشی گن میں 10 ہزار 704 اور وسکونسن میں 25 ہزار 257 ووٹوں سے شکست دی تھی۔

واضح رہے کہ امریکی صدارتی انتخاب کا نتیجہ الیکٹورل کالج ووٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ پاپولر ووٹ پر اور ٹرمپ نے 270 الیکٹورل کالج کی حد عبور کرکے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی۔

گزشتہ دنوں امریکا کے کئی کمپیوٹر ماہرین نے شکست خوردہ صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم چلانے والے گروپ پر زور دیا تھا کہ وہ نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کردیں۔

کمپیوٹر ماہرین نے ہیلری کی مہم پر زور دیا تھا کہ وہ ریاست وسکونسن، مشی گن اور پنسلوانیہ میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کردیں۔

کمپیوٹر ماہرین کہتے ہیں کہ انہیں اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ ان تین ریاستوں میں ووٹوں کی تعداد پر اثر انداز ہونے یا سسٹم کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔

ماہرین نے اپنی تحقیقات ہیلری کلنٹن کے قریبی ساتھیوں کو بھی بھجوائی تھیں۔

ان ماہرین میں یونیورسٹی آف مشی گن سینٹر برائے کمپیوٹر سیکیورٹی اینڈ سوسائٹی کے ڈائریکٹر جے ایلکس ہیلڈر مین بھی شامل ہیں اور انہوں نے ہیلری کے انتخابی کیمپ کو اس بات سے آگاہ کیا کہ ان کے خیال میں جن ریاستوں میں پیپر بیلٹ یا آپٹیکل اسکینر کے بجائے الیکٹرانک ووٹنگ ہوئی وہاں مشکوک طور پر ہیلری کلنٹن کی کارکردگی غیر متاثر کن رہی۔

ماہرین کے اس گروپ نے ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے چیئرمین جان پوڈیسٹا اور قانونی مشیر مارک الیاس کو مطلع کیا تھا کہ جن ریاستوں میں الیکٹرانک ووٹنگ ہوئی وہاں ہیلری کلنٹن کو 7 فیصد کم ووٹ ملے جبکہ ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ یہاں ہیکنگ ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ 8 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل بھی ہیکنگ کے خدشات سامنے آئے تھے اور اوباما انتظامیہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ روس ووٹر رجسٹریشن ڈیٹا کو ہیک کرنے کی کوشش کررہا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY