برطانیہ میں کرونا وائرس کی ایک ایسی ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی ہے جس سے رابطے میں آنے والے افراد، پر خطر مقامات اور جگہوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں، جہاں لوگوں کو جانے کی اجازت دی گئی ہو۔
اس ایپلی کیشن کو جمعرات کے روز انگلینڈ اور ویلز میں لانچ کیا گیا ہے۔
نیشنل ہیلتھ سروسز کی کرونا وائرس کی ایپلی کیشن ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب برطانیہ کو وبا کی دوسری لہر کا سامنا ہے اور وہاں ان دنوں روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی تعداد اس کے قریب پہنچ رہی ہے جتنی پہلی لہر کے عروج کے دنوں میں تھی۔
حکومت نے کرونا وائرس کی ایپلی کیشن مئی میں متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ مگر ابتدائی ٹرائل میں مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ بعد ازاں یہ ایپلی کیشن تیار کرنے والوںں نے مقامی ماڈلز ترک کر کے گوگل اور ایپل کے ماڈلز کے استعمال سے اسے مکمل کیا۔
ایپلی کیشن کی ریلیز میں تاخیر پر حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ اسمارٹ فونز کے ذریعے کرونا کا مقابلہ کرنا اہم نہیں ہے۔
تاہم اب برطانیہ کے امورِ صحت کے سیکرٹری میٹ ہنکاک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جیسے جیسے روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ہر ذریعے کو وائرس سے لڑنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔













