بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی-مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ ان کا فی الحال اپنا استعفیٰ واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
حکومتی وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ وہ مجھے قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر لگتا ہے میں نے انہیں قائل کردیا ہے۔
انکا یہ بھی کہنا تھا کہ 2018 سے بلوچستان کے استحصال، مسائل، وسائل اور مسنگ پرسنز کا معاملا اٹھایا۔
واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے سردار اختر مینگل سے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ واپس لینے کی اپیل کی تھی۔
رانا ثنا اللّٰہ کی قیادت میں حکومتی وفد اختر مینگل کو منانے انکے پاس پہنچا تھا۔
میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناء اللّٰہ نے کہا تھا کہ اختر مینگل کا فیصلہ نہ صرف ان کے حلقے کے عوام بلکہ حکومت کےلیے بھی سرپرائز ہے۔
……………………..
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اختر مینگل نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ میں آج اسمبلی سے استعفیٰ کا اعلان کرتا ہوں، یہ بات میں نے کسی کو نہیں بتائی لیکن آج ابھی اس پریس کانفرنس میں بتا رہا ہوں۔
’اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کرسکا ‘، اختر مینگل نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا
انہوں نے کہا کہ میں اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہیں کر سکا، بلوچستان کے حالات دیکھ کرفیصلہ کرکے آیا تھا، میں ریاست، صدر اور وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اعلان کرتا ہوں، پورے نظام پر عدم اعتماد کر رہا ہوں۔
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے معاملے پرلوگوں کی دلچسپی نہیں، میں اپنے لوگوں کےلیے کچھ نہیں کرسکا، جب بھی اس مسئلے پربات کرو توبلیک آؤٹ کردیا جاتا ہے، ملک میں صرف نام کی حکومت رہ گئی ہے، اس سیاست سے بہترہے میں پکوڑے کی دکان کھول لوں، 65 ہزار ووٹرز مجھ سے ناراض ہونگے ان سے معافی مانگتا ہوں۔
بی این پی کے سربراہ نے اپنا استعفیٰ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا جہاں سیکرٹری قومی اسمبلی نے اسے وصول کیا۔
یاد رہے کہ اختر مینگل این اے 256 خضدار سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔













