کون بھلا سکتا ہے شاذف، علی شاذف

0
1191

سات مئی کو ضیا کے تاریک دور میں تختہ دار پر جھولنے والے رزاق جھرنا کو سرخ سلام

سنا ہے اک رہبر آیا تھا
جس کے پیچھے ایک ہوئے تھے
بچے بوڑھے اور جوان
جیے بھٹو جیے عوام، جیوے جیوے پاکستان

وہ تھا محکوموں کا ہادی
وہ تھا کمزوروں کا والی
جن پر ہے اس کا احسان
جیے بھٹو جیے عوام، جیوے جیوے پاکستان

سب زنجیروں میں جکڑے تھے
ہاری وڈیروں سے ڈرتے تھے
بھٹو نے دی انہیں زبان
جیے بھٹو جیے عوام، جیوے جیوے پاکستان

“جس کی چھت بارش میں ٹپکے
میں ہر اس گھر میں رہتا ہوں”
بھٹو کا تھا یہ فرمان
جیے بھٹو جیے عوام، جیوے جیوے پاکستان

تم نے جس کو لٹکایا تھا
وہ قیدی چھڑوا لایا تھا
جا پہنچا تھا ہندوستان
جیے بھٹو جیے عوام، جیوے جیوے پاکستان

بھٹو اس دھرتی کا بیٹا
بھٹو اس دھرتی کا مان
اس کی خاطر دے دی جان
جیے بھٹو جیے عوام، جیوے جیوے پاکستان

کون بھلا سکتا ہے شاذف
چار اپریل اناسی کی شب
ٹوٹے لاکھوں کے ارمان
جیے بھٹو جیے عوام، جیوے جیوے پاکستان

علی شاذف

SHARE

LEAVE A REPLY