ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری سلام اللہ علیہا، انور عباس انور

0
3029

کتب سیرت و تاریخ شاہد ہیں کہ حضرت خدیجہ نام ہے ایثار و قربانی کا،،،،، احادیث متبرکہ میں مرکوز ہے کہ خدیجۃ الکبری نام ہے راحت قلب پیغمبر اکرم کا اور خدیجہ محورو مرکز نگاہیں رحمتہ اللعالمین ہے، حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیس برس کے سن مبارک میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سے پہلا عقد فرمایا، گوکہ اس وقت جناب خدیجۃ الکبری کا حسن و جمال،جوانی و رعنائی ڈھل چکی تھی لیکن اس کے بوجود نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی جانب سے عقد کی پیشکش کو منظور فرمایا اور اپنی امت کے لیے پیغام چھوڑا کہ اللہ تعالی کے برگزیدہ ہستیاں کسی کے حسن و جمال و شباب پر فریفتہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اعلی اوصاف، عمدہ سیرت ا ور پاکیزہ کردار کے باعث ایک دوسرے کا انتخاب کرتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہرت نیک،دیانتدار اور ایماندار کی تھی لیکن اس وقت تک کسی کو بھی خبر نہ تھی کہ حضور اللہ کی طرف سے پیغمبر بن کر آنے والے ہیں۔ لیکن حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچاجان حضرت ابو طالب نے حضرت خدیجہ سے عقد پڑھنے کے وقت خطبہ نکاح پڑھا تو اہل مکہ پر آشکار کیا کہ ”
آپ سلام اللہ علیہا حسب نسب میں میں بھی ملکہ سمیت پورے خطہء عرب میں منفرد مقام رکھتی ہیں، والد کا اسم گرامی خویلد بن اسد اور والدہ فاطمہ بنت زائدہ ہے، جائے پیدائش مکہ معظمہ ہے، کتب سیر و تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپکا نام گرامی خدیجہ آپکی والدہ حضرت فاطمہ بنت زائدہ نے تجویز فرمایا۔مورخین کا خیال ہے کہ آپ کی ولادت باسعادت ابراہہ کی طرف بیت اللہ پر ہاتھیوں کے لشکر کے ہمراہ یلغار کرنیسے پندرہ سال قبل ہوئی۔اس وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ خویلد بن اسد کے آنگن میں کھلنے والی یہ کلی(حضرت خدیجہ) دنیا کو جہالت کی تاریکی سے نجات دلانے والے پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت میں آکر ”مسلمہ اول“ کہلائے گی اور عرب کے بیہودہ ماحول میں آنکھ کھولنے والی خدیجہ سلام اللہ علیہا ”طاہرہ، کبری اور محسنہ اسلام کے القابات پائے گی۔
تواریخ میں ملتا ہے کہ حضرت خدیجۃ الکبری کے والد گرامی خویلد بن اسد کا شمار شرفا ء اور معزز گھرانوں میں ہوتا تھا، انہیں برے کاموں سے نہ صرف نفرت تھی بلکہ انہیں برے کاموں کی لت میں پڑے لوگوں سے بھی میل جول رکھنا سخت ناپسند تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ عرب میں بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ گاڑھ دینے کے باوجود حضرت خویلد بن اسد کا خاندان اس قبیح فعل سے کوسوں دور تھا، بلکہ اس خاندان میں عورت کو منحوس تسور کرنے کی بجائے اسے باعث عزت و افتخار سمجھ کر انکی پرورش اور تربیت کی جاتی۔
حضرت خویلد بن اسد کی شہرت بھی غریبوں، بے سہارا لوگوں،یتیموؤں اور بیواؤں کا خیال رکھنے اور ظالم سے بیزار شخصیات میں ہوتی تھی، مساکین کی کفالت کرنا انکا محبوب مشغلہ تھا، ان کے انہیں خصائل و فضائل کے سبب مکہ معظمہ کے معتبرین نے اس گھرنے کو اہم ذمہ داریاں سونپ رکھی تھیں۔ حضرت خدیجۃ الکبری نے بچپن سے لیکر جوانی تک اور حضور علیہ السلام سے عقد تک بلکہ تمام زندگانی ان اوصاف، ترجیحات اور کمالات کو مضبوطی سے تھامے رکھا جو ان کے خاندان کا خاصہ تھیں۔
حضرت خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا نے حضور کی پاکدامنی، دیانتداری اور صداقت کی شہرت دیکھ کر انہیں اپنا مال تجارت لیجانے والے قافلوں میں شریک کرنے کا سوچا، اگر یوں کہا جائے کہ خدا بزرگ برتر نے حضرت خدیجۃ الکبری کی قسمت بدلنے کا فیصلہ کیا اور انہیں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کاروبار میں شامل کرنے کی سمجھ عطاکی۔ چنانچہ حضرت ﷺ کو بلایا اور انہیں قافلے کے ساتھ جانے کی پیشکش کی تو حضور ﷺ نے قبول کرلی۔ ضس قافلے کے ساتھ آپ ﷺ تشریف لے گئے اسے پہلے سے کہیں زیادہ منافع ہوا، واپسی پر حضرت خدیجۃ الکبری کے غلام خاص نے سفر کی تمام روداد سنائی، حضرت خدیجۃ الکبری کے خادمین خاس نے سفر میں پیش آنے والے تمام واقعات ایک ایک کرکے ان کے گوش گزار کیے،،تو آپ حضور نبی کریم ﷺ کی گرویدہ ہوگئیں، گویاا نہیں اپنی امیدوں اور آرزؤں کا حامل مل گیا ہو، کتب میں تحریر ہے کہ حضور نبی کریم کا قافلہ ابھی واپس نہ آیا تھا کہ آپ سلام اللہ علیہا کو سہانے کواب آنے لگے، جن کی تعبیر یہ تھی کہ آپ کا ایک نبی مکرم سے نکاح ہوگا، جس پر آپ نے حضور ﷺ کو پیغام نکاح بھیج دیا جس پر حضور ﷺ نے کہا کہ وہ اپنے چاچا جان حضرت ابوطالب سے مشورہ کرکے جواب سے مطلع فرمائیں گے۔یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ حضورﷺ کو نکاح کا پیغام بھیجنے سے قبل عرب کے امیر،کبیر افراد بھی بی بی سلام اللہ علیہا سے نکاح کرنے کی کوائش کا اظہار کرچکے تھے لیکن طاہرہ و کبری بی بی انہیں مسترد کر چکی تھیں۔
حضرت ابوطالب نے حضرت خدیجۃ الکبری سے نکاح کی اجازت عطا فرمائی، حضرت خدیجۃ الکبری کی جانب سے ورقہ بن نوفل اور حجور علیہ السلام کی طرف سے آپ کے چاچا جان حجرت ابوطالب نے خطبہء نکاح پڑھا۔ حضرت ابوطالب نے اپنے خطبہ ء میں کہا کہ”اس خدائے عظیم و ارفع کو سزا وار رہے جس نے ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد بنایا۔ ہمارا سلسلہ نسب معدو مضر ایسے بزرگوں سے ملایا۔ بیت اللہ شریف کی حفاظت ہمارے سپرد کی۔ مکہ معظمہ کی سرداری ہمیں بخشی، اور ایسا پاک اور عزت والا حرم ہمیں عطا فرمایا کہ ہرسمت سے زائرین اسکے طواف کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔خدا کے اس مقدس گھر میں جو داخل ہوجاتا ہے۔ اس کے امن اور حفاظت کی ذمہ داری خود مولائے کریم لے لیتا ہے۔اس کے علاوہ ہم رب تعالی کے مشکور ہیں کہ اس نے ہمیں حکومت عطا فرمائی اور لوگوں کا حکمران بنایا، اللہ تعالی کی توصیف و تعریف کے بعد بتا دینا چاہتا ہوں کہ محمد بن عبداللہ میرا حقیقی بھتیجا ہے۔ یہ اعلی صفات اور اعلی عادات کا سرمایہ دار ہے۔ قریش میں کوئی نوجوان انسانیت اخلاقی و روحانی اقدار میں اسکا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اور میں یہ دعوی سے کہتا ہوں کہ قبائل عرب میں ایک بھی شخص ایسا نہیں جو نیک خضائل میں محمد سے لگا کھا سکے، میرا یہ بھتیجا اگر تونگر اور دوت مند نہیں تو کوئی بات نہیں،کیونکہ مال و دولت ایک فانی چیز ہے،ہاں! انسانیصفات کو بقائے دوام حاصل ہے، معززین مجلس سے میرے بھیتجے محمد کے فضائل پوشیدہ نہیں،اور بنو اسد سے بنو ہاشم کی قرابت داری بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آپ سب حجرات کو علم ہے کہ محمد(ﷺ) بنو اسد کی خاتون خدیجہ سے عقد کرنا چاہتا ہے، میں بھری نجلس میں اعلان کرتا ہوں کہ اس کے مہر کی ادائیگی میرے ذمہ ہوگی، مین پھر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بڑی بزرگی اور بڑی شان کا انسان ہوگا۔ اور اس سے قوم کی عظمت میں حیرت انگیز اضافہ ہوگا۔ (کتاب سیرت حضرت خدیجۃ الکبری مولف حکیم محمد ادریس فاروقی) حضرت
ابو طالب کے خطبہء کے بعد ورقہ بن نوفل نے بھی خطبہء پڑھا۔ اس عظیم ہستیوں کی عظیم شادی کا حق مہر بیس اونٹ جن کی قیمت چار سو مثقال سونا یا پانچ سو درہم ہوتی ہے حضرت ابوطالب نے ادا کیا۔
انتہائی سادگی مگر پورے تزک اھتشام سے انجام پانے والی یہ شادی تاریخ کی بہترین اور عظیم شادی قرار پائی۔
حضرت خدیجۃ سلام اللہ علیہا کی دولت کا شمار تاریخ و سیرت کی کتب میں ملنا دشوار ہے، ہاں اتنا ہر ذی شعور شخص جانتا ہے کہ حضور علیہ السلام نے جب اعلان نبوت فرمایا تو آپ سلام اللہ علیہا نے فرمایا ”یا رسول اللہ! یہ عرب کے روساء کی فہرست ہے جو میرے مقروض ہیں یہ کلمہ پڑھتے جائیں میں اپنا قرض معاف کرتی ہوں“ اس سال فروری میں عمرہ کی ادائیگی کے دوران جب غار حرا کی زیارت کی تو بے اختیار آنکھیں برس پڑی کہ ملیکۃ العرب، حضرت خدیجۃ الکبری کیسے آرام و راحت ترک کرکے حضور ﷺ کے لیے ستو اور دیگر سامان خوراک لایا کرتی تھیں۔
ابتدا ء میں تحریر کرچکا ہوں کہ حضور ﷺ آپ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے، ان کو دیکھے بنا چین نہ پاتے تھے،۔ آپ حضرت خدیجۃ الکبری کے انتقال کے بعدایک بار ایک ام المومینین نے حضور ﷺ سے فرمایا ”چھوڑیں جی آپ ایک بڑھیا کو یاد کرکے روتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بدلے آپ ﷺ کو بہترین بیویاں عطا فرمائی ہیں، تو آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا اور آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، خدیجہ نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلاتے تھے، خدیجہ نے اس وقت مجھ پر اپنا مال خرچ کیا جب دوسرے چھپاتے تھے“
حضرت خدیجۃ الکبری سے انکی ایک ہمشیرہ کی آواز بہت مشابہت رکھتی تھی وہ جب بھی مکہ تشریف لاتیں اور حضورﷺ انکی سن سنتے تو بے ساختہ پکار اٹھتے ”خدیجہ آ گئیں“ ملیکۃ العرب اور رئیس عرب کا لقب پانے والی عظیم خاتون نے اپنا سارا مال و دولت اللہ کے دین کی تبلیغ پر صرف کردیا اور ذرا بھر بھی اف تک نہیں کہا۔ بلکہ دین اسلام کی تبلیغ و ترویج میں شعب ابی طالب میں محصوری کے دوران سوکھے پتے، درختوں کی چھال اور ربڑ کے ٹکٹے ابال ابال کر کھائے مگر اپنی زبان اقدس پر کوئی گلہ شکوہ نہیں لائیں۔ آج کی خاتون ہوتی تو مال و دولت چھن جانے پر واویلا کرتی۔ لیکن آفرین ہے خویلد بن اسد کی لائق و فائق دختر نے زبان پر حرف شکایت نہیں آنے دیا۔
ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری نے شعب ابی طالب کے مصائب و تکالیف بڑی خندہ پیشانی سے سہے لیکن حضور ﷺ سے شکایت و شکوہ نہیں کیا، شعب ابی طالب سے رہائی کے بعد تھوڑا عرصہ حضور علیہ السلام سے رفاقت نبھا پائیں اور دسویں رمضان المبارک کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں، ساری زندگی شوہر کی فرمابردار اور تابعدار رہیں، حضرت خدیجۃ الکبری کا یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے برگزیدہ فرشتے حضرت جبرائیل کے توسط سے سلام بھیجا۔
جناب حضرت خدیجۃ الکبری جیسی عظیم ہستیاں ہماری خواتین کے لیے مشعل راہ اور رول ماڈل ہونا چاہئیں نا کہ ہم اور ہماری خواتین مغرب کی دلدادہ بنیں، اللہ اس خاتون عظیم کی تقلید کرنے اور ان کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی ہمیں توفیق عطا کرے۔اللہ ہمیں بھی ہدایت فرمائے کہ ہم ایسی عظیم خواتین کے ایام عالمی سطح پر منائیں،

SHARE

LEAVE A REPLY