موت ایک عجیب معاملہ ہے، کسی اپنے کی موت۔ وہ موت جو کبھی سوچی نہیں جاتی۔ وہ موت جو وقت سے پہلے آتی ہے۔ وہ موت جو ایک صاف آسمان پر اچانک گھر آنے والی ایک سیاہ بدلی کی طرح سورج کی روشنی کو ڈھانپ لیتی ہے۔ ایسی موت ایک عجیب معاملہ ہے۔ نہ سمجھ میں آنے والا معاملہ۔ جس پر گزرے، سو گزرے پر کسی اور کے لیے اسے محسوس کرنا ممکن نہیں ہے۔ کچھ درد صرف دیکھے جا سکتے ہیں۔ کچھ غم صرف لکھے جا سکتے ہیں پر وہ دل میں نہیں سماتے ۔ ذہن ان کو ماپ نہیں سکتا ہاں مگر اس کے لیے جس پر وہ بیتے۔
ڈینیل ہینڈلر اپنے ایک ناول میں ایسے ہی کسی پیارے کی موت کو بیان کرتا ہے تو ٹھٹک جاتا ہے۔ وہ لفظ ڈھونڈتا ہے پر لفظ نہیں ملتے۔ لفظ اتنے گہرے نہیں ہوتے کہ اس میں اتنا دکھ سما سکے۔ اسلم انصاری نے کہا تھا کہ کلام دکھ ہے کہ کون کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے۔ تو میرے دوست لفظ نہیں ہیں۔ کوئ لفظ نہیں ہیں ۔ بس ایک احساس سا ہے۔ ایک عجیب سا احساس۔ جیسے رات کے اندھیرے میں دوسری منزل کو جاتے ہوئے سیڑھیاں چڑھو۔ آخری سیڑھی پر قدم دھرو تو یاد نہ رہے کہ آخری سیڑھی ہے۔ اس کے بعد کی سیڑھی کے لیے قدم اٹھاؤ اور سیڑھی نہ ملے ۔ بس وہ ایک لمحے کا سوواں حصہ جس میں قدم زمین ڈھونڈتا ہے مگر وہاں خلا ہے۔ وہ ایک لمحے کا سوواں حصہ جس میں بے یقینی ہے، توازن کی معدومیت ہے، ایک خاموش چیخ ہے، ایک دل کی رکی ہوئی دھڑکن ہے۔ بس وہ ایک لمحے کا سوواں حصہ جس میں ہم پر یہ رمز کھلتی ہے کہ اگلا قدم ویسا نہیں ہے جیسا سوچا تھا۔۔وہاں نہیں ہے جہاں اسے ہونا تھا۔ اب ایک ایسی نئی مطابقت کرنی پڑے گی جو نہ وہم میں تھی نہ گمان میں۔ بس اس ایک لمحے کے سوویں حصے کو کھینچ لیجیے تو وہ عمر بن جائے گی جو پیاروں کی ناگہانی موت کے بعد بسر ہوتی ہے۔
اسامہ کائرہ اور حمزہ بٹ۔ نوجوانی کی سرحد پر پیر دھرا ہی تھا کہ موت راستے میں آ کھڑی ہوئی۔ آپ اور میں سب اسامہ کے والد کو جانتے ہیں۔ سیاست میں شائستگی، بردباری اور ذہانت کی جو دو چار مثالیں باقی بچی ہیں۔ان میں سے ایک قمر زمان کائرہ کی ہے۔ چونکہ آپ اور میں انہیں جانتے ہیں اور ہم میں سے کوئی اسامہ کو نہیں جانتا تھا، کوئی حمزہ بٹ سے واقف نہیں تھا۔ تو جو ہم نے لکھا، جو ہم بیان کر رہے ہیں، جو ہم سوچ رہے وہ سب قمر زمان کائرہ کے لیے ہے۔ پر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ایک باپ کے لیے سوچ رہے ہیں یا ہم اب بھی سیاست کی وہ بساط اٹھائے پھر رہے ہیں جس کے سارے مہرے غلط خانوں میں براجمان ہیں۔
اس گزرے دن میں موت کی اس خبر نے کیا کیا نہ رویے آشکار کیے ہیں۔ ابھی اسامہ کی قبر کی مٹی گیلی ہے۔ ابھی قمر زمان کائرہ کے آنسو خشک ہونے میں دیر ہے۔ اور ابھی بات کرنے کا وقت ہے کیونکہ کچھ باتیں ابھی کرنے کی ہیں۔ کچھ سبق ابھی پڑھنے کے ہیں۔ ان باتوں میں کچھ ایسی دعائیں پنہاں ہیں جو نماز جنازہ میں پڑھی جاتی ہیں ۔ کچھ ایسے استغفار چھپے ہیں جن کا ذکر قبر کے کنارے کیا جاتا ہے۔ کچھ ایسے نمناک لمحے ہیں جو گلے لگا کر بِتائے جاتے ہیں اور کچھ ایسے سفاک حقائق ہیں جو موت کی طرح سچ ہیں۔ تو بات ابھی کر لی جائے کہ ابھی سب سنتے ہیں۔ یہ معاملہ تنقید کا نہیں ہے۔ جائزے کا بھی نہیں ہے۔ کوئی شکوہ بھی نہیں ہے ۔ بس کچھ عرض کرنا ہے کہ ہم سب اپنے کہے کی صلیب خود اپنے کندھوں پر لے کر چلیں گے۔ چند لمحوں کی بات ہے پھر یہی صلیب شہر کے بیچ گاڑ دی جائے گی اور اٹھانے والوں کے ساتھ خاموش دیکھنے والوں کو بھی مصلوب ہونا پڑے گا۔ بس چند لمحوں کی بات ہے۔
ہمیں غم کی خبر دینے کا ہنر سیکھنا ہے۔ یہ کیسی صحافت ہے جو سب سے پہلے خبر دینے کو معراج فن اور اوج کمال گنتی ہے۔ یہ کیسی تربیت ہے جو باپ کو بیٹے کی موت کی اطلاع یوں دیتی ہے جیسے کسی ہری بھری شاخ کو کلہاڑی کی ایک ضرب سے کاٹ دیا جائے۔ سینے میں ایک دل رکھنے کی ضرورت ہے۔ خالی سینے سے جو آواز نکلتی ہے وہ بہت کریہہ ، بہت بھدی ہوتی ہے۔ دنیا کو ایسی آوازوں کی اور ضرورت نہیں ہے کہ پہلے ہی ہر سو ایک بے ہنگم شور ہے۔
کیا ہر موت پر ہر کوئی غم زدہ ہوتا ہے۔ ضروری نہیں ہے۔ ہر موت غم کا پیغام نہیں لاتی۔ اس دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا نام شر کی ، تباہی کی ، دہشت کی علامت ہے۔ بہت سے ایسے ہیں جو نفرت کے پیمبر ہیں۔ بہت سے وہ ہیں جو استحصال کے، جبر کے، دھوکے کے سوداگر ہیں۔ ایسی موت پر کچھ ان کے اپنے گریاں کناں ہوتے ہیں تو بہت سے کلمۂ شکر کہنے والے بھی ہوتے ہیں۔ بات سمجھ میں آتی ہے۔ پر ایک اٹھارہ برس کے بچے کو، جس کے نام سے بھی کل تک میں اور آپ آشنا نہیں تھے، اس پر غم کے ساتھ کوئی شکر، کوئی طنز، کوئی دشنام، کوئی پیغام عبرت کس طرح بیچا جا سکتا ہے۔ قمر زمان کائرہ تو نفیس ترین شخص ہیں پر کیا کوئی ہٹلر، مسولینی، ٹیڈ بنڈی، ملا فضل اللہ یا ابوبکر البغدادی کی کسی بے گناہ اولاد کی موت کو بھی ان کے حوالے سے اپنی نفرت یا اپنی سیاست کے لیے استعمال کرنے کا سوچ سکتا ہے۔ باپ کا اگر کوئی کفارہ ہے بھی تو کونسا عدل اسے بیٹے سے وصول کرنے کی بات کر سکتا ہے۔ یہ وہی کر سکتا ہے جس کو سینے میں ایک دل کی ضرورت ہے اور کاسہ سر میں ایک دماغ کی۔
ایک گروہ وہ ہے جس نے اپنے بغض کا اشتہار لگانا تھا۔ جانے یہ نفرت مخالف سیاسی گروہ سے تھی ، اشرافیہ سے تھی یا اپنے سے ہر بہتر آدمی سے پالا ہوا بغض تھا پر انہوں نے بدترین گفتگو کی ۔ پستی کی نئی حدیں پاتال سے نیچے تک کھود ڈالیں۔ موت کو انہوں نے اپنی نفرت میں گوندھا اور اس کا لیپ اپنی اپنی دیواروں پر کر دیا۔ پر ٹھہریے ۔ ابھی بات ختم نہیں ہوئی۔ موقع پرستوں کا گروہ صرف یہ نہیں تھا۔ کچھ لوگ اس تاک میں بیٹھے تھے کہ ان سیاہ دیواروں کی تصویر کھینچ کر اس کے پوسٹر بنائے جائیں اور شہر کی خالی رہ جانے والی دیواروں پر چسپاں کر دیے جائیں۔ اس گروہ کو بھی کائرہ صاحب کے غم سے کوئی مطلب ، کوئی سروکار نہیں تھا۔ انہیں سیاسی تنقید کے لیے ایک اٹھارہ سال کے مردہ بچے کا کندھا چاہیے تھا سو انہوں نے اپنی بندوق اس پر ٹیکی اور فائر کرنے شروع کر دیے۔ میں سمجھ سکتا تھا اگر پہلے والے رویے کی تنقیص کی جاتی۔ اس پر تبرا کیا جاتا، بے ہودہ بات کرنے والوں کو کسی اگر، مگر اور لیکن کے بغیر ایک کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا۔ ان کے کہے پر بات ہوتی ، ان کی وابستگی پر نہیں۔ پر ان سیاست زدگان نے ہر تعفن زدہ جملے کو جیسے ہی ایک سیاسی جماعت کی فکر سے جوڑا ، ان کی ساری مذمت پانی میں بہہ گئی اور ملمع زدہ چہرے کے نیچے سے ویسا ہی عفریت نکل آیا جس کے پیچھے یہ پتھر لے کر دوڑے تھے۔ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا۔ بس نشانے فرق تھے۔ دونوں قبیلوں سے کہنا یہ تھا کہ ہر بات سیاسی ایجنڈے کے لیے نہیں ہوتی۔ ہر تنقید سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے نہیں ہوتی اور ہر دکھ بیچنے کے لیے نہیں ہوتا۔ اگلوں کو منع کرتے ہیں اور ٹھیک کرتے ہیں پر اپنی گج گامنی چال پر بھی نظر کر لیجیے۔
آخری بات وہ ہے جو یاروں کو پسند نہیں ہے۔ حادثہ ہوا تو جہاں بہت سوں نے یہ سوال اٹھائے کہ گاڑی میں ایر بیگ نہیں تھے یا اور حفاظتی انتظامات کا فقدان تھا۔ طبی سہولت فوری موجود نہیں تھی وہاں اکثریت نے سمجھایا کہ جب کسی کا وقت آ جاتا ہے تو کوئی اسے نہیں ٹال سکتا۔ ایر بیگ ، سیٹ بیلٹ یا طبی سہولیات سے مزین ایمبولنس، سب موت کے معین وقت کے آگے بے بس ہیں۔ میں بہت نرم لہجے میں بھی بات کروں تو اس سے بودا، احمقانہ اور فضول نظریہ ممکن نہیں۔ تقدیر مبرم کا یہ فلسفہ ہمارے کتنے ہی مسائل کی جڑ میں گھر بنائے ہے۔ ہم دیمک کو ختم کرنے میں نہیں ، اسے پالنے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی اوسط عمر اسی پچاسی سال تک جا پہنچی ہے۔ اچھی سہولیات ، بہتر خوراک ، حفاظتی انتظامات اور طبی میدا۔ میں ترقی نے معینہ موت میں بیس سے پچیس سال تک کی توسیع کر دی ہے۔ دو رویہ سڑکوں نے حادثات آدھے کر دیے ہیں۔ سیٹ بیلٹ اور ایر بیگ نے سنگین حادثات میں مرنے والوں کی تعداد میں پچھتر فی صد کی کمی کر دی ہے۔ بہتر طبی سہولیات نے زچگی میں ہونے والی اموات کو نوے فی صد تک کم کر دیا ہے۔ اور اس طرف ہم کھڑے ہیں۔ راحت فتح علی خان کی آواز میں آواز ملا کر “موت کا ایک دن معین ہے” گنگنانے والی قوم کے یہاں زچگی میں ہونے والی اموات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ جاپان میں 6.8 کے زلزلے میں تین اموات ہوتی ہیں ہمارے یہاں 6.8 کے زلزلے میں ہزار ہا لوگ مر جاتے ہیں۔ وہ انجینئرنگ سے قدرتی حادثات کا تدارک کرتے ہیں، ہم اسے اللہ کی مرضی کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔
میں اپنے ان پڑھے لکھے دوستوں کو جانتا ہوں جو گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے سیٹ بیلٹ کا بکل خالی سیٹ سے گزار کر اسے مقفل کر دیتے ہیں تاکہ گاڑی کی وارننگ بیپ نہ سننی پڑے۔ سوچیے یہی عادت جب ان کے بچوں میں راسخ ہو گی اور کل کو ایک حادثے میں یہی سیٹ بیلٹ زندگی اور موت کا فرق بنے گی تو پھر یہ کیا سوچیں گے۔ دنیا میں سستی سے سستی گاڑی میں بھی چار سے چھ ایر بیگ موجود ہوتے ہیں ۔ ہمارے یہاں آٹو موبیل مافیا کی اجارہ داری میں بننے والی نوے فی صد گاڑیوں میں سرے سے ایر بیگ ہوتا ہی نہیں اور پچیس تیس لاکھ سے مہنگی گاڑیوں میں بصد احسان ایک یا دو ایر بیگ نصب ہوتے ہیں جو اکثر کام ہی نہیں کرتے۔ سابق وزیر شیر افگن نیازی کے بیٹے کی موت ایسے ہی حادثے میں ہوئی ۔ انہوں نے اسی خامی کی بنا پر مقامی طور پر کاریں بنانے والی مشہور ترین کمپنی پر مقدمہ کیا جس کا ان کی اپنی وفات تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
اگر موت اپنے وقت اور اپنے طریق پر کسی آسمانی طاقت کی مرضی سے آتی ہے تو سارے قاتلوں کو جیل سے رہا کر دینا چاہیے۔ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا اس نے انسانیت کو قتل کیا جیسے اقوال نصاب سے خارج کر دینے چاہئیں۔ ہسپتال بند کر دینے چاہئیں ۔ ٹریفک پولیس کا محکمہ ختم کر دینا چاہیے۔ موٹر وے پر حد رفتار ختم کر دینی چاہیے۔ سیلاب اور قدرتی حادثات کے انتظام کا محکمہ ختم کر دینا چاہیے۔ کرنٹ سے بچانے والے فیوز کی فروخت پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ اونچی عمارتوں سے حفاظتی ریلنگ اتار لینی چاہیے ۔ فوڈ کنٹرول ختم کر دینا چاہیے۔ حفاظتی ٹیکے اور ویکسینز دریا برد کر دینی چاہئیں اور سب سے اہم یہ کہ فوج اور پولیس دونوں اداروں کے تمام ملازمین کو بیک جنبش قلم معزول کر دینا چاہیے۔ جس نے جب مرنا ہے سو مر ہی جائے گا۔ ڈر کاہے کا۔
ایک جوان موت میں کیا کیا سبق چھپے ہیں ۔ اگر کوئی سیکھنا چاہے تو پر ہماری عقل، ہماری تربیت اور ہمارے نظریے، یہ موت سے بھی عجیب معاملے ہیں کہ میں شاید موت کو تو سمجھ لوں پر ان کو کبھی سمجھ نہیں پاتا۔ اپنے جوان بچوں، بھائیوں اور بہنوں پر نظر کیجیے۔ ان کی زندگی کو قیمتی جانیے۔ اس کے تحفظ کے لیے ہر وہ عقلی قدم اٹھائیے جو اٹھانا چاہیے۔ یقین رکھیے، آسمانوں سے اب حفاظت کے لیے کوئی نہیں اترے گا۔












