امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں، ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑی قیمت ادا نہیں کی۔
ٹروتھ سوشل پر بیان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ایران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے، آبنائے ہرمز کی ناکا بندی انتہائی دوستانہ ہے، مجھے ایران سے ڈیل کی تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے، مجھے اس تجویز کے اصل الفاظ سے جلد آگاہ کیا جائے گا، جلد ہی جائزہ لوں گا، یہ سوچ نہیں سکتا کہ ایران کی تجاویز قابل قبول ہوں گی۔
……………………….
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کو مناسب تجاویز پیش کرنی چاہئیں، ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے، پاکستان کی بہت عزت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کےوزیراعظم اور فیلڈم ارشل کی بہت عزت کرتا ہوں، ایران سے مذاکرات جاری ہیں ،ایران کےپاس فضائیہ ہے نہ بحریہ، سب تباہ ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی قیادت کا آپس میں اتحاد نہیں، وہ آپس میں بہت کنفیوژ ہیں، یقین نہیں ہے کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں اوریہ بھی نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کہ آبنائے ہرمز ابھی تک بند ہے، ہماری ایران سے بات چیت جاری ہے لیکن معاملات آگے نہیں بڑھ رہے۔
اُنہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایرانی قیادت کا یکسان مؤقف نہیں ہے ہر کوئی اپنی اپنی بات کر رہا ہے ، یہ ایران پر منحصر ہے ہمیشہ کے لیے ختم ہوناچاہتا ہے یا ڈیل؟
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران نے جنگ بندی مذاکرات سے متعلق نئی تجاویز پاکستان کے حوالے کردیں۔
خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق ایران نے جمعرات کی شام کو اپنا نیا مذاکراتی مسودہ پاکستان کے حوالے کیا۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے تجویزجمعرات کو بھیجی گئیں، ایران نے امریکا سے مذاکرات کیلئے نئی تجاویز پاکستان کے حوالے کیں۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی سفارتی ذرائع نے پاکستانی ثالثوں کو نئی تجاویز پیش کرنے کی تصدیق کر دی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پاکستان مرکزی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کئی دیگر ممالک بھی تعاون کے لیے آمادہ ہیں لیکن باضابطہ طور پر ثالثی کی ذمہ داری پاکستان کے پاس ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق اگر مذاکرات کے انعقاد کا حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس بارے میں باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا جائے گا۔













