قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے زبردست شور شرابا کیا، تاہم اس دوران وزیر مملکت نے اپنی تقریر جاری رکھی۔
اس دوران اپوزيشن اراکین نے اسپیکر کے ڈائس گا گھیراؤ کرلیا اور ’گو نیازی گو‘ اور ’عوام کو جینے دو‘ کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
اپوزیشن اراکین نے بجٹ کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے۔
وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر کا سالانہ بجٹ برائے مالی سال 20-2019 پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب حکومت ملی تو پاکستان کا قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں اور 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ تھا۔
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے گر کر 10 ارب ڈالر تک رہ گئے تھے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔
آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ ہو چکا ہے، بورڈ کی منظوری کے بعد اس منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا، معیشت کو استحکام حاصل ہو گا اور سالانہ ترقی کی شرح میں اضافہ ہو گا۔
سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بغیر 3.2 ارب ڈالر کا تیل درآمد کرنے کی سہولت حاصل کی گئی، اسلامی ترقیاتی بینک سے فوری ادائیگی کے بغیر تیل درآمد کرنے کی سہولت شروع کر دی ہے۔
اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 7 ارب ڈالر اور اگلے سال ساڑھے چھ ارب ڈالر کی کمی آئے گی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ کا کُل حجم تقریباً 6 ہزار 800 ارب روپے ہے، 34.6 فیصد شرح سے اضافے کے ساتھ پانچ ہزار 550 ارب روپے کے ٹیکس محصولات کا مشکل ہدف حاصل کرنے کیلئے متعدد نئے ٹیکس عائد کرنے اور 750 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگا نے کی بھی تجویز ہے۔











