ہارٹ آف ایشیا کانفرنس: بھارت اور افغانستان کی پاکستان پر تنقید

0
705

بھارت کے شہر امرتسر میں ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا چھٹا وزارتی اجلاس شروع ہوگیا جس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کررہے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے کانفرنس کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا اور دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان پر شدید تنقید کی۔

افغان صدر اشرف نے کہا کہ ’میں الزام تراشیوں کا تبادلہ نہیں چاہتا، میں اس بات کی وضاحت چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے‘۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اشرف غنی نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ افغانستان کو دہشت گردی سے لڑنے کے لیے امداد چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے، پاکستان نے افغانستان کی ترقی کے لیے 50 کروڑ ڈالر امداد کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ رقم دہشت گردی کو قابو کرنے کے لیے استعمال ہونی چاہیے‘۔

اشرف غنی نے مزید کہا کہ ’گزشتہ برس افغانستان میں ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی، یہ ناقابل قبول ہے، کچھ عناصر اب بھی دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں، ایک سینیئر طالبان رکن نے حال ہی میں کہا کہ اگر انہیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہ نہ ملتی تو وہ ایک مہینہ بھی نہیں چل سکتے‘۔

انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ’کراس بارڈر سرگرمیوں کو جانچے‘۔

افغان صدر نے بھارت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’بھارت کا تعاون ہمیشہ غیر مشروط ہوتی ہے، دونوں ملکوں کے تعلقات مشترکہ اقدار اور بھروسے پر مبنی ہیں‘۔

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان مصافحہ ہوا تاہم باضابطہ ملاقات نہیں ہوئی۔

ہندوستان کے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیرا عظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی نے مشترکہ طور پر ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا افتتاح کیا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ہونے والے علیحدہ ملاقات بھی ایک گھنٹے تک جاری رہی جبکہ اس سے قبل نریندر مودی اور اشرف غنی نے مشترکہ طور پر گولڈن ٹیمپل کا بھی دورہ کیا تھا۔

کانفرنس کے افتتاح کے بعد اپنے خطاب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’ہمارا آج یہاں جمع ہونا افغانستان میں دیر پا امن اور سیاسی استحکام کے عزم کا اعادہ کرتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چیلنجز بہت بڑے ہیں لیکن ہم ان سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نریندر مودی نے کہا کہ دہشت گردی افغانستان اور خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، ہمیں دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں نمٹنا ہوگا۔

ہمیں دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف سخت اور مشترکہ عزم کا اظہار کرنا ہوگا جو قتل و غارت اور خوف پھیلانے میں مصروف ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے بھارت، افغانستان اور ایران کے تعاون سے بننے والے چاہ بہار بندرگاہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس سے افغانستان کو فائدہ پہنچے گا اور اس کی معیشت کو دنیا کے دیگر حصوں سے جوڑ دے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے تجارت کا فضائی روٹ بنانے کی خواہش ہے ، تجارت ایک ارب ڈالر تک بڑھائیں گے۔

امرتسر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان کی ترجیح امن ہے اور وہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے۔

پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سرتاج عزیز نے کہا کہ ’دہشت گردی ان مسائل میں سے ایک ہے جس پر بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کی ضرور ہے، دونوں ملکوں کو میڈیا میں بیان بازی کے بجائے مل بیٹھ پر معاملات طے کرنے چاہئیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر واضح اور باضابطہ مذاکرات نہیں ہوں گے تو میڈیا کے ذریعے ہونے والی باتوں سے اختلاف اور منفی تاثر کو تقویت ملے گی۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان خطے کے امن و سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ بھارت میں ہونے والی اس کانفرنس میں شریک ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY