ننکانہ صاحب میں جسے گرونانک کی جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے سکھ پاک زمین مانتے ہیں اسلام کے وارثوں کے ہاتھ ‘وارث’ مارا گیا۔ ایک اور مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ اسلام کی حرمت بچ گئی انسانیت مار دی گئی۔ توہینِ مذہب کے واقعات جب بھی سامنے آتے ہیں تو میں ہر بار یہ سوچتی ہوں کہ اس دردناک اس دہشت ناک واقعہ سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے؟ لیکن جب اگلی بار اس طرح کا کوئی سانحہ نظروں سے گزرتا ہے تو روح تک کانپ جاتی ہے۔ ابھی تو نتھنوں سے پریانتھا کمار کی جلی لاش کی بدبو نہیں گئی تھی کہ وارث کی جلی لاش آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بدبو یہ تعفن ان لاشوں سے نہیں اٹھتا ہے بلکہ ہمارے معاشرے سے اٹھ رہا ہے۔ پریانتھا کمار کی موت کو ایک سال ہو گیا ہے۔ اور اس ایک سال میں اس طرح کے واقعات کا بار بار ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ہم ابھی بھی نفرت اور شدت پسندی کے اسی مقام پہ کھڑے زہر اگل رہے ہیں جہاں ایک سال پہلے تھے۔ نہ کوئی بہتری آئی ہے اور نہ ہی اُمید ہے۔
ہمارا ملک اس بربریت کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ دوسرے ممالک اپنی ایک خوبصورت تصویر دنیا کے سامنے رکھنے کے لیے حتی الوسع کوشش کرتے ہیں تاکہ لوگ ان کے ہاں کا رخ کریں سیاحت اور تجارت کو فروغ ملے۔ جبکہ ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ سیالکوٹ ہمارا صنعتی شہر ہے جو دنیا بھر سے تجارت اپنی طرف سے کھینچ سکتا تھا اور ننکانہ صاحب بابا گرونانک کی جائے پیدائش کی وجہ سے دنیا بھر سے سکھ برادری کو اپنی طرف کھینچ سکتا تھا وہاں ایسی بربریت کے واقعات غیر ملکیوں کو اس طرف کا رخ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور کریں گے۔
توہینِ مذہب اب ایک ایسا خطرناک ہتھیار بن چکا ہے کہ جس کی آڑ میں اکثر لوگ اپنے مذموم ذاتی مقاصد پورے کرتے نظر آتے ہیں۔ پچھلے دنوں کراچی ائیرپورٹ پر ایک مسیحی سیکیورٹی افسر کو کہا گیا کہ اگر وہ من پسند افراد کی گاڑی کو ائیرپورٹ کے احاطے میں داخل نہیں ہونے دے گا تو اس پر توہینِ مذہب کا الزام لگا دیا جائے گا۔ وحشت اور مذہبی انتہا پسندی کا یہ عالم ہے کہ کبھی ایک شخص ہجوم میں گھس کر ہجوم مار دیتا ہے تو کبھی ہجوم مل کر ایک شخص کی جان لے لیتا ہے۔
اگر پاکستان میں مذہبی دہشت گردی کے آغاز کا بغور جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کی پہلی اینٹ دو قومی نظریہ اور پھر اس کے بعد قرادادِ مقاصد تھی جس سے ریاست کو مذہبی بنیادوں پر افراد اور گروہوں کی شناخت اور تشخص کا حق حاصل ہوا اور اب دوقومی نظریہ ترقی پا کر اس سطح پہ ہے کہ جہاں پاکستان میں صرف مسلمان ہی انسان ہیں اور زندہ رہنے کا حق رکھتے ہیں اور مسلمان کون ہے یہ ریاست اور افراد اپنی سہولت اور مرضی کے مطابق طےکریں گے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر بار اس طرح کے کسی سانحے پر چند مذہبی اور سیاسی لیڈران کا رٹا رٹایا مذمتی بیان آتا ہے جبکہ عملی طور پر اس ضمن میں آج تک کچھ نہیں ہو سکا۔ یہ مذہبی دہشت گردی کا زہر ریاستی ایوانوں سے نکلا ہے تو تریاق بھی وہیں سے آنا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے حکمران نہ کل سنجیدہ تھے نہ آج ہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کی اُمید ہے۔ وہ اس بات سے غافل ہیں کہ آگ لگی تو سب کا گھر جلے گا بقول راحت اندوری؛
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے













