ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جناح ایکسپریس حادثے میں بظاہر ذمہ دار ٹرین ڈرائیور ہے، خراب سگنلز سے پہلے رپیٹر سگنل اشارہ دے رہا تھا مگر جناح ایکسپریس کے ڈرائیور نے سگنل کو نظر انداز کیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے چیئرمین اسد جونیجو کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ریلوے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جناح ایکسپریس کا ڈرائیور 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا تھا،جبکہ اسٹیشن پر رفتار 15 کلو میٹر فی گھنٹہ ہونی چاہیے۔

ریلوے حکام نے کہا کہ ٹرین حادثے میں انکوائری ابھی مکمل نہیں ہوئی، بظاہر ذمہ دار ٹرین ڈرائیور ہی ہے، کراچی اور حیدرآباد کے درمیان خود کار سگنلنگ سسٹم لگا ہوا ہے۔

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ ریلوے کے ریٹائرڈ ڈرائیورز کو دوبارہ رکھنے پر غور کر رہے ہیں، ریٹائرڈ ڈرائیور کی بھرتیوں کے لیے وزیر اعظم سے اجازت لینگے،جبکہ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ریٹائرڈ ڈرائیورز کو ٹرین کیسے دوبارہ چلانے دینگے ، یہ خطرناک ہوگا۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے سرسید ایکسپریس کا 3 جولائی کو افتتاح ہوگا ، انہوں نے کہا کہ 24 اگست کو ریلوے کی کارکردگی پوری قوم کے سامنے لاؤں گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY